غیر سیّد کا خود کو سیّد کہنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر سید کا خود کو سید کہلوانا اور لکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
غیر سید کا (یعنی جو سید نہ ہو، اس کا) خود کو سید کہلوانا اور سید لکھنا کیسا؟
جواب
پاکستان اور ہِندوستان میں سید اور سادات کا لفظ ایسے افراد کے لیے بولا جاتا ہے، جن کا سلسلۂ نسب اپنے والد کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دو نواسوں، امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی سے جا ملتا ہو یعنی حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہماکی اولادِ پاک کویہاں سید، سادات کہا جاتا ہے، لہذا یہاں پر جو شخص ان کی اولاد میں سے نہ ہو، اس کا اپنے آپ کو سید کہنا، کہلوانا، لکھنا، لکھوانا، در حقیقت اپنے خاندان و نسب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان سے اپنا نَسَب جوڑنا ہے، جو کہ سخت ناجائز و حرام ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ ایسا شخص بحکم حدیث ملعون ہے۔ اس پر اللہ عزوجل، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ عزوجل ایسے شخص کا نہ فرض قبول فرمائے گا، نہ نفل۔ لہذا جو شخص سید نہ ہو اُسے اپنے آپ کو سید کہنا، کہلوانا ہرگز جائز نہیں۔ ایسا شخص فاسق و گناہ گار ہے، اس پر توبہ کرنا اور اس جھوٹے نسب کے دعوے سے بچنا لازم ہے۔
نوٹ: یاد رہے! سید نہ ہو کر بھی اپنے آپ کو سید کہنا، لکھنا، یہ ہر شخص کا اپنا اور خدا کا معاملہ ہے، ہم بغیر دلیل کے اسے جھٹلا نہیں سکتے، ہاں! اگر تحقیقی طور پر جب ہمیں معلوم ہوجائے کہ یہ سید نہیں تھا، اب سید بن بیٹھا ہے، تو ہم بھی اسے فاسق اور گنہگار اور مستحق لعنت ہی سمجھیں گے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیثِ مبارکہ ہے
قال النبي صلى اللہ تعالى عليه وسلم:۔۔۔ من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة اللہ، و الملائكة، و الناس أجمعين، لا يقبل اللہ منه يوم القيامة صرفا و لا عدلا
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنے حقیقی موالی کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے، تو اس پر اللہ عزوجل، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ نفل۔ (صحیح مسلم، صفحہ 509، حدیث: 1370، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
صحیح بخاری شریف کی حدیثِ مبارکہ ہے
عن سعد رضي اللہ عنه قال: سمعت النبي صلى اللہ عليه و سلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه، و هو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام
ترجمہ: حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اپنے باپ کےعلاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعوٰی کرے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں، تو اس پر جنت حرام ہے۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1228، حدیث: 6766، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی جو دیدہ و دانستہ (جان بوجھ کر) اپنے کو اپنے باپ کے سواء کسی اورشخص کا بیٹا بتائے، اس کی میراث لینے کے لیے، یا اپنی عزت و آبرو بڑھانے کے لیے، یا کسی اور مصلحت سے تو وہ اولًا (پہلے پہل) یا اَبرار (نیک بندوں) کے ساتھ جنت میں نہ جاسکے گا، یا جو شخص یہ کام حلال جان کر کرے وہ جنت سے بالکل محروم ہے۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو سید نہیں مگر اپنے کو سید کہتے کہلواتے ہیں، یہ بیماری بہت لوگوں میں ہے۔ یہ حدیث مختلف اِسنادوں سے مختلف الفاظ سے آئی ہے۔۔۔ ابو داؤد (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرتِ انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ جو شخص اپنے غیر باپ کو باپ بتائے یا اپنے غیر مولٰے کی طرف اپنے کو منسوب کرے اس پر تاقیامت اللہ کی لعنت ہے پے درپے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 139، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: جو واقع میں سید نہ ہو اور دیدہ و دانستہ بنتا ہو وہ ملعون ہے نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل ۔۔۔ مگر یہ اس کا معاملہ اللہ عزوجل کے یہاں ہے ہم بلادلیل تکذیب نہیں کرسکتے، البتہ ہمارے علم (میں) تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سید نہ تھا اور اب سید بن بیٹھا تو اُسے ہم بھی فاسق و مرتکب کبیرہ و مستحق لعنت جانیں گے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 198، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں۔ جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔ اور خواہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا، مطعون کرنا ہرگز جائز نہیں۔
الناس امنأ علی انسابھم
(لوگ اپنے نسب پرامین ہیں)، ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سیّد نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے نہ اُسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے۔ میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سیّد سے الجھا، انہوں نے فرمایا: میں سیّد ہوں، کہا: کیا سند ہے تمہارے سیّد ہونے کی۔ رات کو زیارتِ اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکہ حشر ہے، یہ شفاعت خواہ ہوا، اعراض فرمایا۔ اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا امتی ہوں۔ فرمایا: کیا سند ہے تیرے امتی ہونے کی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 588، 587، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4662
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم 1447ھ / 23 جنوری 2026ء