logo logo
AI Search

روح کی حقیقت کیا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روح کس چیز سے بنی ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

انسانی جسم کو مٹی سے بنایا گیا ہے، تو روح کو کس چیز سے بنایا گیا ہے؟

جواب

 

روح، اللہ عزوجل کے صرف کلمہ "کُن" سے بغیر کسی مادہ وغیرہ کے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: (وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِؕ-قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا)  ترجمۂ کنزُ العِرفان: اور تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ تم فرماؤ: روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور (اے لوگو!) تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ ( پارہ 15، سورۃ بنی اسراءیل، آیت: 85)

تفسیرِ مظہری میں ہے

”ويسئلونك عن الروح اى الذي يحيى به بدن الإنسان ويدبره قل الروح من أمر ربي اى من الإبداعيات الكائنة بقوله كن من غير مادة ولولد عن اصل كاعضاء الجسد“

ترجمہ: اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، یعنی اس چیز کے بارے میں جس کے ذریعے انسان کے بدن میں زندگی آتی ہے اور وہ اس کی تدبیر کرتی ہے، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب عزوجل کے حکم سے ہے، یعنی وہ ان چیزوں میں سے ہے جو محض اللہ کے حکم "کن" سے وجود میں آتی ہیں، بغیر کسی مادّے کے، اور نہ ہی وہ کسی اصل سے پیدا ہوتی ہے جیسے جسم کے اعضا پیدا ہوتے ہیں۔ (تفسیر مظھری، جلد 5، صفحہ 484، 485، مطبوعہ: کوئٹہ)

مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: ”آہستگی سے پیدا فرمانا خلق ہے، اور ایک دم پیدا فرمادینا امر، یا مادیات کو پیدا فرمانا خلق ہے، اور مجردات کی پیدائش امر، یا بالواسطہ پیدا فرمانا خلق ہے، اور بلاواسطہ پیدائش امر، رب تعالٰی فرماتا ہے: (قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ) یعنی روح عالم امر سے ہے یا صرف کلمۂ کُن سے بنی ہے کسی مادہ وغیرہ سے نہیں بنی۔ (مراۃ المناجیح، جلد  4، صفحہ 29، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4673
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب1447 ھ/19جنوری 2026ء