نظر سے بچنے کے لیے گھوڑے کی نعل یا جانور کا سینگ لگانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گھروں کے باہر نعل یا سینگ لگانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ بعض لوگ گھروں کے باہر نظرِ بد سے بچنے کے لئے گھوڑے کی نعل لگاتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ جانور کی سینگ لگاتے ہیں، ہم نے سنا ہے کہ یہ ناجائز ہے؟ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
نظر کا لگنا حق ہے،احادیث و آثار سے واضح طور پر اس کا ثبوت ملتا ہے،اسی وجہ سے شریعتِ مطہرہ نے جہاں نظرِ بد سے حفاظت کےلئے دعائیں تعلیم فرمائی،وہیں اس سے حفاظت کی تدابیر اختیار کرنے کی بھی اجازت مرحمت فرمائی، لہٰذا نظر بد سے حفاظت کی تدابیر اختیار کرنا، جائز ہے جبکہ مفید ہوں، اور شرعی تقاضوں کے خلاف نہ ہوں۔ اس تفصیل کے پیش نظر، نظر بد سے بچنے کے لئے گھروں پر گھوڑے کی نعل اورجانور کی سینگ لگانے کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح کی تدابیر کی نظائر شرع میں موجود ہیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک خوبصورت بچے کو دیکھا،تو فرمایا کہ اسے کالا ٹیکہ لگا دوتاکہ اسے نظر نہ لگے، یونہی علمائے دین نے حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے، نظر بد سے بچنے کے لئے کھیتوں میں لکڑی پر کپڑا وغیرہ باندھ کر نصب کرنے کی اجازت دی،اورمذکورہ دونوں تدابیر کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ جب کوئی دیکھنے والا خوبصورت بچے یا کھیتی کو دیکھے گا تو اس کی نظر پہلے بچے کے چہرے پر موجود کالےٹیکے ،اور کھیت میں نصب کی گئی لکڑی پر،اور اس کے بعد بچے کے چہرے اور کھیتی پر پڑے گی،جس کی وجہ سے نظرِ بدسے حفاظت رہے گی۔ یہی مقصد گھوڑوں کی نعل اور جانور کی سینگ لگانے کا بھی ہوتاہے کہ دیکھنے والے کی نظر پہلے ان پر اور پھر اس کے بعد گھر پر پڑے اور نظرِ بد سے حفاظت رہے۔
البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان چیزوں کی بنسبت بہتر اور افضل یہی ہے کہ ماثور دعائیں پڑھنے کا معمول بنایا جائے۔ حدیثِ مبارکہ میں نظرِ بد سے حفاظت کی ایک بہترین دعا یہ وارد ہے:
اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَ هَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ
یعنی: میں ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر بیمار کرنے والی نظر سے، اللہ کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں۔ خوبصورت بچے کے چہرے پر كالا ٹیکہ لگانے کے متعلق حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان نقل کرتے ہوئے علامہ علی بن سلطان محمد قاری علیہ الرحمۃلکھتے ہیں
فی شرح السنۃ روی ان عثمان رضی اللہ عنہ رأی صبیاً ملیحا فقال دسموا نونتہ کیلا تصیبہ العین۔ و معنی دسموا سودوا، و النونۃ النقرۃ التی تکون فی ذقن الصبی الصغیر
شرح السنۃ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خوبصورت بچّہ کو دیکھا تو فرمایا اس کی ٹھوڑی میں سیاہ نقطہ یا ٹیکہ لگادو تاکہ نظر نہ لگے۔ دَسِّمُوْا کا معنی ہے سیاہ کرنا اور اَلنُّوْنَۃ سے مراد وہ چھوٹا نشان ہے جو چھوٹےبچہ کی ٹھوڑی پر لگایا جاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 08، ص 360، تحت الحدیث: 4531، مطبوعہ کوئٹہ)
اس طرح کی تدابیر جب مفید اور خلاف شرع نہ ہوں، تو ان کے اپنانے میں حرج نہیں، البتہ افضل ماثور دعائیں ہیں، چنانچہ مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ مذکوره حدیث کے تحت فرماتے ہیں: عوام میں مشہور ٹوٹکے اگر خلافِ شرع نہ ہوں تو ان کا بند کرنا ضروری نہیں۔ جیسے دواؤں میں نقل کی ضرورت نہیں، تجربہ کافی ہے۔ ایسے ہی دعاؤں اور ایسے ٹوٹکوں میں نقل ضروری نہیں۔ خلافِ شرع نہ ہوں تو درست ہیں۔ اگرچہ ماثور دعائیں افضل ہیں۔ (مرأۃ المناجیح ملخصا، ج 06، ص 224، نعیمی کتب خانہ)
مرأۃ المناجیح کے ایک دوسرے مقام میں ہے: خیال رہے کہ جب دواؤں میں ہماری عقل کام نہیں کرتی تو ان ٹوٹکوں میں کام نہ کرے گی، لہٰذا ان اعمال پر اعتراض کرنا بےجا ہے۔ (مرأۃ المناجیح ملخصا، ج 06، ص 224، نعیمی کتب خانہ)
نظرِ بد سے حفاظت کے لئے کھیتوں میں لکڑیاں وغیرہ نمایاں کرکے نصب کرنے کی اجازت اور اس کی حکمت کے متعلق قاضی خان اور شامی میں ہے،
و اللفظ لقاضیخان: و لا بأس بوضع الجماجم في الزرع و المبطخة لدفع ضرر العين لأن العين حق تصيب المال و الآدمي و الحيوان و يظهر أثره في ذلك عرف ذلك بالآثار، و إذا خاف العين كان له أن يضع فيه الجماجم حتى إذا نظر الناظر إلى الزرع يقع بصره أولا على الجماجم لارتفاعها فنظره بعد ذلك إلى الحرث لا يضر لما روي أن امرأة جاءت إلى النبي صلى الله عليه و سلم و قالت نحن من أهل الحرث و إنا نخاف عليه العين فأمرها النبي صلى الله عليه و سلم أن تجعل فيه الجماجم
نظر بد سے بچنے کے لئے کھیت میں (جانوروں کی یا مصنوعی) کھوپڑیاں اور دیگچیاں لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں، کہ نظر کا لگنا حق ہے، یہ مال، آدمی اور جانور کو لگ جاتی ہے، اور اس کا اثر اِن میں ظاہر ہوتا ہے، یہ بات آثار میں معلوم ہے، لہٰذا نظر لگنے کا اندیشہ ہو، تو کھیت میں کھوپڑیاں لگانے میں کوئی حرج نہیں، کہ دیکھنے والا جب اسے دیکھے گا تو پہلے اس کی نظر کھوپڑیوں پر پڑے گی، کیونکہ وہ نمایاں ہوں گی، اس کے بعد اس کا کھیت کو دیکھنا نقصان دہ نہیں ہوگا،مروی ہے کہ ایک عورت حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی، اور عرض کی کہ ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ ہیں، ہمیں کھیتوں پر نظر لگنے کا خدشہ رہتا ہے، تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیت میں کھوپڑیاں لگانے کامشورہ ارشاد فرمایا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 06، ص 364، دار الفکر، بیروت) (فتاوی قاضی خان، ج 03، ص 330، مطبوعہ کوئٹہ)
بہارشریعت میں ہے: بعض کاشتکار اپنے کھیتوں میں کپڑا لپیٹ کر کسی لکڑی پر لگادیتے ہیں، اس سے مقصود نظرِ بد سے کھیتوں کو بچانا ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے گی، اس کے بعد زراعت پر پڑے گی اور اُس صورت میں زراعت کو نظر نہیں لگے گی، ایسا کرنا ناجائز نہیں کیونکہ نظر کا لگنا صحیح ہے، احادیث سے ثابت ہے، اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ (بہار شریعت، ج 03، ص 420، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
بچوں کے چہرے پر کالا ٹیکہ لگانے کی بھی یہی حکمت ہے چنانچہ علا مہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: نظر سے بچنے کے لیے ماتھے یا تھوڑی وغیرہ میں کاجل وغیرہ سے دھبہ لگادینا یا کھیتوں میں لکڑی میں کپڑا لپیٹ کر گاڑ دینا تاکہ دیکھنے والی کی نظر پہلے اس پر پڑے اور بچوں اور کھیتی کو کسی کی نظر نہ لگے ۔ ایسا کرنا منع نہیں ہے۔ کیونکہ نظر کا لگلنا حدیثوں سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ (جنتی زیور، ص 410، 411، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
نظر بد سے حفاظت کی دعا بیان کرتے ہوئے حضرت عبد الله ابن عباس رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
كان النبي صلى اللہ عليه وسلم يعوذ الحسن و الحسين، و يقول: إن أباكما كان يعوذ بها إسماعيل وإسحاق: أعوذ بكلمات اللہ التامة، من كل شيطان و هامة، و من كل عين لامة
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن حسین پر تعویذ کرتے اور فرماتےتمہارے والد یعنی حضرت اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام بھی انہی کلمات سے تعویذ کیا کرتے تھے: میں ہر شیطان و زہریلے جانور سے اور ہر بیمار کرنے والی نظر سے، اﷲ کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں۔ (صحیح بخاری، ج 04، ص 147، رقم: 3371، دار طوق النجاۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0198
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1444ھ / 05 اکتوبر 2023ء