کمیٹی چھوڑنے والے پر جرمانہ لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
درمیان سے کمیٹی چھوڑنے والے پر جرمانہ ڈالنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کمیٹی کے افراد میں سے کوئی شخص کسی مجبوری کی وجہ سے درمیان سے کمیٹی چھوڑنا چاہے، تو کیا کمیٹی چھوڑنے پر اسے جرمانہ لگا سکتے ہیں؟ نیز اس کی جمع شدہ رقم واپس کرنے میں کچھ رقم کی کٹوتی کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تاکہ کوئی بھی شخص کمیٹی نہ چھوڑے اورہمیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جواب
کمیٹی چھوڑنے والے فرد سے جرمانہ وصول کرنا یا اس کی جمع شدہ رقم سے کٹوتی کرنا شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ناجائز اور حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل تعزیر بالمال یعنی مالی جرمانے کے زُمرے میں آتا ہے۔ ابتدائے اسلام میں مالی جرمانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ شریعت کا واضح اصول یہ ہے کہ کسی منسوخ حکم پر عمل کرنا، جائز نہیں۔
علاوہ ازیں، اس طریقے سے کسی فرد کا مال حاصل کرنا دراصل باطل اور ناحق طریقے سے مال ہتھیانے کے مترادف ہے، جس کی قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں شدید مذمت کی گئی ہے، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے خلافِ شرع کاموں سے اجتناب کریں۔
مالی جرمانے کے متعلق علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 911ھ / 1505ء) لکھتےہیں:
کان فی صدر الاسلام تقع العقوبات فی الأموال ثم نسخ
ترجمہ: ابتدائےاسلام میں مالی سزائیں دی جاتی تھیں، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ (شرح نسائی، کتاب الزکوٰۃ، عقوبۃ مانع الزکوٰۃ، جلد 8، صفحہ 32، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
رد المحتار میں ہے:
و فی شرح الآثار للامام الطحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ
ترجمہ: امام طحاوی علیہ الرحمۃ کی شرح معانی الآثارمیں ہے: تعزیربالمال کا حکم اسلام کے ابتداء میں تھا، پھر منسوخ کردیا گیا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحدود، باب التعزیر، جلد 6، صفحہ 98، مطبوعه كوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت،شاہ امام احمدرضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جرم کی تعزیر مالی جائز نہیں کہ منسوخ ہے او رمنسوخ پر عمل حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 506، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاھور)
اور کسی کا مال ناحق طریقے سے لینے کے متعلق قرآن پاک میں ہے:
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ
ترجمہ کنز العرفان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 188)
اس آیت کے تحت امام ابو عبد اللہ محمدبن احمد انصاری قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 671ھ / 1273ء) لکھتے ہیں:
الخطاب بھذہ الایۃ یتضمن جمیع اُمۃِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم و المعنی: لا یاکل بعضکم مال اخیہ بغیر حق، فیدخل فی ھذا: القمارو الخداع و الغصوب و جحد الحقوق و ما لا تطیب بہ نفس مالکہ
ترجمہ: اس آیت میں خطاب حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام اُمت کو شامل ہے اور معنی یہ ہے کہ: تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے، اس آیت کے عموم میں جُوا،دھوکے سے کوئی چیز لینا، غصب (چیز چھین لینا)، کسی کا حق دینے سے انکار کر کے اس کا حق دبا لینا، جس چیز کے دینے پرمالک راضی نہ ہو، اسے لے لینا (وغیرہ سب شامل ہے)۔ (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 338، مطبوعہ دار الکتب، القاھرۃ)
سنن دارقطنی کی حدیثِ پاک میں ہے:
لا یحل مال امرء مسلم الا عن طیب نفس
ترجمہ: کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔ (سنن الدار قطنی، جلد 3، صفحہ 424، مطبوعه مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی
ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سببِ شرعی کے کسی کا مال لے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحدود، باب التعزیر، جلد 6، صفحہ 98، مطبوعه كوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان عرفان احمد مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9183
تاریخ اجراء: 23جمادی الاولیٰ 1446ھ / 26نومبر 2024ء