جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا اور رقم شو کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بینک کی جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا اور اِس پر اجرت وصول کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ جب کسی طالب علم کو بیرون ملک تعلیم کے سلسلے میں جانا ہوتا ہے تو بسا اوقات جس تعلیمی ادارے میں داخلہ مقصود ہوتا ہے، اس ادارے کی جانب سے اسٹوڈنٹ یا اس کے سرپرست کا اکاؤنٹ بیلنس اور اسٹیٹمنٹ سیکیورٹی کے طور پر چیک کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ ادارے کی فیس افورڈ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اب ان میں بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جوکہ فیس تو افورڈ کرسکتے ہیں لیکن ان کے اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن اور بیلنس ادارے کے مطلوبہ لیول کے مطابق نہیں ہوتی، ایسے لوگ ایڈمیشن کے لئے بینک سے جعلی اسٹیٹمنٹ بنواتے ہیں اور بینک کی مدد سے مطلوبہ رقم کچھ عرصے کے لئے اپنے اکاؤنٹ میں رکھواتے ہیں، یہ رقم انہیں بینک مہیا کرتا ہے، لیکن یہ صرف اکاؤنٹ میں شو کرنے کی حد تک ہوتا ہے، کلائنٹ اس رقم کو کسی طرح استعمال نہیں کرسکتا، حتی کہ اس کا اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ بھی بینک اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اس سروس پر کلائنٹ بینک کو کچھ فیصد رقم ادا کرتا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ اس طرح جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا اور اکاؤنٹ میں رقم شو کروانا کیسا ہے؟ نیز مذکورہ فعل پر کلائنٹ کا بینک کومخصوص رقم دینا جائز ہے؟
جواب
بیان کردہ صورت میں جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا اور اکاؤنٹ میں وہ رقم شو کروانا جس کا اکاؤنٹ ہولڈر مالک نہیں، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں داخل ہے، جو ناجائز و حرام ہے، نیز بینک کا مذکورہ فعل پر اعانت کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، اور اس مذموم فعل پر کلائنٹ کا ایک مخصوص رقم دینا اور بینک کا اسے لینا بھی حرام ہے کیونکہ یہ کوئی قابل اجارہ کام نہیں، تو اس پر دی جانے والی رقم اپنا کام نکلوانے کے لیے دی جارہی ہے جو رشوت اور باطل اجرت ہے۔
جھوٹ صرف زبان کے ساتھ خاص نہیں، اس حوالے سےامام محمد بن محمد الغزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
الكذب لا يختص باللسان. قال اللہ تعالى: وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ
یعنی کذب زبان کے ساتھ خاص نہیں ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اور وه اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا لائے (حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ، ج 09، ص 204، دار النوادر بیروت)
دھوکا دینے والوں کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ليس منا من غش“جو شخص دھوکہ دہی کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابن ماجه، ج 02، ص: 749, رقم: 2224، دار إحياء الكتب العربية)
دھوکا دہی کے متعلق سيدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: غدر (دھوکہ) و بد عہدی مطلقاً ہر کافر سے بھی حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، ص 17، ص 348، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
گناہ کے کام پر مدد کرنا گناہ ہے، چنانچہ ارشادخداوندی ہے:
وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوٰنِ
اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 06، المائدۃ: 02)
محیط برہانی میں ہے:
الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر
“گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (المحیط البرھانی، ج 08، ص 312، دار الكتب العلمية، بيروت)
اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِؕ-
ترجمہ کنز الایمان: بڑے جھوٹ سننے والے، بڑے حرام خور۔ (القرآن، پاره 6، سورة المائده، آیت: 42)
رشوت بھی مذکورہ سُحت کے تحت داخل ہے، اس حوالے سے احکام القرآن میں ہے:
اتفق جميع المتاولين لهذه الآية على ان قبول الرشاء حرام، و اتفقو انه من السحت الذي حرمه اللہ تعالی
اس آیت کی وجہ سے تمام مفسرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بے شک رشوت قبول کرنا حرام ہے اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا کہ رشوت اس سحت میں سے ہے، جسے اللہ تبارک و تعالی نے حرام فرمایا ہے۔ (احكام القرآن للجصاص، ج 02، ص 541، دار الكتب العلميه، بيروت)
رشوت کی مذمت کے متعلق حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں:
لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم الراشي و المرتشي
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی۔ (جامع الترمذی، ج 03، ص 615، رقم 1337، طبع دار الحدیث القاھرۃ)
رشوت کے مفہوم کے حوالے سے فتح القدير میں ہے:
و في شرح الأقطع: الفرق بين الرشوة و الهدية أن الرشوة يعطيه بشرط أن يعينه، و الهدية لا شرط معها
یعنی شرح الأقطع میں ہے رشوت اور ہدیہ کے درمیان فرق یہ ہےکہ رشوت اس شرط پر دیتے ہیں کہ لینے والا اس کے کسی کام میں معاونت کرے گا، اور ہدیہ میں یہ شرط نہیں ہوتی۔ (فتح القدیر، ج 07، ص 272، طبع دار الفکر بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-449
تاریخ اجراء: 25ربیع الثانی1446ھ/29 اکتوبر 2024ء