logo logo
AI Search

دوسرے کے نام پر فری میڈیکل سہولت لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی دوسرے کےنام پر میڈیکل کی فری سہولت حاصل کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر ایک بھائی کو میڈیکل فری کی سہولت حاصل ہو اور اس کے نام پر دوسرا بھائی اپنا چیک اَپ کروائے یا دوائیاں لے لے، تو ایسا کرنا کیسا ہے؟ اس کا شرعی حکم بیان فرما دیں۔

جواب

دوسرے بھائی کے نام پر چیک اپ کروانا یا دوائیاں لینا صریحاً جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے، جو کہ سخت ناجائزو گناہ ہے، اگر ماضی میں ایسا کیا جا چکا ہے، تو اس پر اللہ سے توبہ کریں، اور جس قدر مالی نقصان ادارے کو پہنچایا ہے (یعنی جتنی رقم کا علاج کروایا یا دوائیاں لیں)، اس کی تلافی بھی کریں کہ وہ رقم ادارے کو کسی طریقے سے پہنچادی جائے۔

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

من غش فلیس منا

ترجمہ: جو دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن الترمذی، صفحہ 513، حدیث: 1315، دار ابن کثیر)

علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

الغش ستر حال الشیء

ترجمہ: دھوکے کا مطلب ہے کہ کسی چیز کی اصلی حالت کو چھپانا۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 185، مطبوعہ: مصر)

الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی میں ہے

و الكذب محظور الأديان

ترجمہ: جھوٹ تما م ادیان میں ناجائز ہے۔ (الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، جلد 3، صفحہ 123، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

توبہ کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے سچی توبہ اللہ عزوجل نے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی و وافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک و کفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر اس لئے کہ وہ اس کے رب عزوجل کی نافرمانی تھی، نادِم و پریشان ہو کر‏فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہوبجا لائے۔ مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب، سرقہ، رشوت، ربا سے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق کردے اور دل میں یہ نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 121 ۔ 122، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4641
تاریخ اجراء: 25 رجب المرجب 1447ھ /15 جنوری 2026ء