logo logo
AI Search

گاڑی کی مائلیج کم کرکے بیچنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دھوکہ دہی کی ایک صورت کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مکینک کے پاس بعض اوقات ایسے گاہک آتے ہیں جو اپنی گاڑی فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گاڑی کی مائلیج (اوڈومیٹر ریڈنگ) کم کر دیں۔ مثلاً اگر گاڑی ڈیڑھ لاکھ کلو میٹر چل چکی ہو تو اسے 80 یا 90 ہزار کلو میٹر کر دیا جائے۔ اس کے لیے مکینک کے پاس ایک مشین موجود ہوتی ہے جس کے ذریعے گاڑی کا میٹر پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گاڑی جتنی کم چلی ہو، اسی حساب سے اس کی قیمت زیادہ لگ جاتی ہے اور بہتر ریٹ مل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مکینک کا گاڑی کی مائلیج کم کر کے دینا شرعاً جائز ہے؟

جواب

گاڑی کی مائلیج کم کروانا یا میٹر پیچھے کروا کر فروخت کرنا بلاشبہ دھوکہ دہی اور گناہ کا کام ہے، کیونکہ خریدار یہی سمجھ کر خریدے گا کہ گاڑی کم چلی ہوئی ہے، تبھی وہ اچھے ریٹ پر خریدے گا، جبکہ حقیقتاً وہ گاڑی زیادہ چلی ہوئی ہو گی، اور کسی چیز کی اپنی اصلی حالت کو چھپانا دھوکہ ہے، جو کہ حرام ہے۔ لہٰذا سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق مکینک حضرات کا گاڑی کی مائلیج کم کر کے دینا، دھوکہ دینے کے کام میں معاونت ہے اور کسی بھی گناہ کے کام میں تعاون کرنا یا گناہ کے کام پر اجارہ کرنا بھی ناجائز ہے۔

دھوکہ دینے والوں کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ليس منا من غش“ ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو دھوکہ دہی کرے۔(سنن ابی داود، ج3، ص:272،مطبوعه بیروت)

فیض القدیر میں ہے: ”والغش ستر حال الشئ“ یعنی دھوکے سے مراد کسی چیز کا اصل حال چھپاناہے۔(فیض القدیر،جلد6،صفحہ186،مطبوعہ، مصر)

گناہ کے کام میں مدد کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (القرآن،پارہ 06، سورۃ المائدۃ، آیت: 02)

اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے: ”نھی عن معاونۃ غیرنا علیٰ معاصی اللہ تعالی“ ترجمہ:اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن ،جلد 02،صفحہ 381، دار الکتب العلمیۃ،بیروت)

گناہ پر مدد کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے چنانچہ حاشیۃ الشلبی میں ہے: ”الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائركذا فی الذخيرة والمحيط“ ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور ان پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اسی طرح ذخیرہ اور محیط میں ہے۔ (حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق،جلد04، صفحہ 222،مطبوعہ مصر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-765

تاریخ اجرا: 25جمادی الاخریٰ 1447ھ / 17 دسمبر 2025ء