بغیر ارادے کہ ان شاء اللّٰہ کہنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دل میں کوئی کام نہ کرنے کا ارادہ ہو، تو اس پر ان شاء اللہ کہنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی نے کہا فلاں کام کرو گے تو اس نے کہا ان شاء اللہ عزوجل جبکہ اس کا اس کام کو کرنے کا پختہ ارادہ یا ارادہ ہی نہیں ہے، اس نے بس ان شاء اللہ کے مطلب اگر اللہ نے چاہا کو ذہن میں رکھ کر اس کے جواب میں’’ ان شاء اللہ عزوجل ‘‘ کہا،تو اس میں کچھ گناہ تو نہیں؟

جواب

ان شاء اللہ کہنے کا اصل مو قع محل تو یہی ہے کہ جب دل میں واقعی کسی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ موجود ہوتو اس پر ان شاء اللہ کہنا چاہئے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ پختہ ارادے کے ساتھ ان شاء اللہ کہاجائے۔ البتہ اگر پختہ ارادہ، یا اصلاً ارادہ ہی نہ ہواور ان شاء اللہ کہا، تو یہ گناہ نہیں، تاہم بہتر یہی ہے کہ اگر کسی کام کا ارادہ نہ ہو تو مناسب انداز میں سامنے والے سے کہہ دیا جائے کہ فی الحال ارادہ نہیں، جب ارادہ بنے گا تو ان شاء اللہ ضرور کروں گا۔ یہ تو ایک عمومی صورتحال کا جواب ہے، لیکن اگر کسی صورت میں ان شاء اللہ کہنے سے ظاہر یہ کیا جائے کہ پختہ وعدہ اور یقینی ارادہ ہے لیکن دل میں نہ کرنے کا ذہن ہو تو اپنی نیت کی وجہ سے دھوکا قرار پائے گا اور یہ گناہ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا(23) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘-

ترجمہ کنز العرفان: اور ہر گز کسی چیز کے متعلق نہ کہنا کہ میں کل یہ کرنے والاہوں۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ (پارہ 15، سورہ الکہف: 23، 24)

کسی کام کے پختہ ارادے پر  ان شاء اللہ  کہنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ تفسیر خازن میں ہے:

قوله سبحانه و تعالى ولا تقولن لشيء إني فاعل ذلك غدا إلا أن يشاء اللہ يعني إذا عزمت على فعل شيء غدا فقل إن شاء اللہ و لا تقله بغير استثناء

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہنا کہ میں یہ کام کل ضرور کروں گا، مگر یہ کہ تو کہے: اگر اللہ چاہے یعنی جب تو کل کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو کہہ اگر اللہ نے چاہا، اور بغیر استثناء (یعنی ان شاء اللہ کہے بغیر) یہ بات نہ کہہ۔ (تفسیر خازن، جلد 3، صفحہ 161،دار الكتب العلمية، بيروت)

ان شاء اللہ  کہنا تعریض میں داخل نہیں، لہذا ضرورت و بلا ضرورت مطلقاً گناہ نہیں، چنانچہ بریقہ محمودیہ فی شرح طریقۃ محمدیۃ میں ہے:

و من التعريض تقييد الكلام بلعل و عسى و عن النبي صلى اللہ تعالى عليه و سلم «المخرج من الكذب» أي طريق الخروج من الكذب «أربع إن شاء اللہ و ما شاء اللہ و لعل و عسى» كذا في التتارخانية) لا يخفى أن الأولى للمصنف على هذا أن يضم القولين الأولين إلى الأخيرين لعل ذلك ليس من التعريض إذ التعريض ليس بجائز بلا ضرورة و هما ليسا كذلك فافهم

ترجمہ: اور تعریض (یعنی ذو معنی بات) میں سے ہے کہ کلام کو لعلّ (شاید) اور عسى (امید ہے) سے مقید کرنا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ: کذب (جھوٹ) سے نکلنے کے چار راستے ہیں: ان شاء اللہ، ما شاء اللہ، لعلّ، اور عسى۔ ایسا ہی تتارخانیہ میں ہے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مصنف کے لیے مناسب یہ تھا کہ پہلے دو الفاظ (ان شاء اللہ اور ما شاء اللہ) کو بعد کے دو (لعلّ اور عسى) کے ساتھ (کلام کی تقیید والی صورت میں) ملا دیتے، مگر شاید (ایسا اس لئے نہیں کیا) کیونکہ دراصل یہ دونوں (ان شاء اللہ اور ما شاء اللہ) تعریض میں داخل نہیں، اس لیے کہ تعریض بغیر ضرورت کے جائز نہیں، اور یہ دونوں (یعنی ان شاء اللہ اور ما شاء اللہ) اس نوع سے ہیں ہی نہیں۔ پس سمجھ لو۔ (بریقہ محمودیہ فی شرح طریقۃ محمدیۃ، جلد 3، صفحہ 181، مطبعة الحلبي)

دھوکے کی مذمت کے بارے میں اللہ رب العزت ارشادفرماتاہے:

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ- وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ

ترجمہ کنز العرفان: یہ لوگ اللہ کو اور ایمان والوں کو فریب دینا چاہتے ہیں حالانکہ یہ صرف اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ: 9)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظاہر وباطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے۔ یہ منافقت ایمان کے اندر ہوتو سب سے بدتر ہے اور اگر عمل میں ہو تو ایمان میں منافقت سے تو کم تر ہے لیکن فی نفسہ سخت خبیث ہے، جس آدمی کے قول و فعل اور ظاہر و باطن میں تضاد ہوگا تو لوگوں کی نظر میں وہ سخت قابلِ نفرت ہوگا۔ ایمان میں منافقت مخصوص لوگوں میں پائی جاتی ہے جبکہ عملی منافقت ہر سطح کے لوگوں میں پائی جاسکتی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 80،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

المعجم الکبیر للطبرانی کی حدیث مبارکہ ہے:

قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «من غشنا فليس منا، و المكر و الخداع في النار»

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں اور مکرکرنے والا اور دھوکہ دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ (المعجم الكبير للطبرانی، جلد 10، صفحہ 138، رقم الحدیث: 10234، مطبوعہ قاھرۃ)

علامہ عبدالرؤوف مناوی علیہ الرحمۃ فیض القدیر شرح جامع الصغیرمیں فرماتے ہیں:

و الغش ستر حال الشئ

ترجمہ: دھوکہ تو یہ کسی چیز کا اصل حال چھپاناہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 185، المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

دھوکہ دینا مطلقاً حرام ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: غدر (دھوکہ) و بد عہدی مطلقا سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی مستامن یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈيشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-967

تاریخ اجراء: 18 جمادی الاولی1447ھ / 10 نومبر 2025ء