بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ بیوی کو کھلانے پر صدقے کا اجر ہے، تو اس کھلانے سے کیا مراد ہے؟ بیوی کو اپنے ہاتھ سے کھلانا ہے یا کمائی کر کے بیوی کو لا کر دینا ہے، رہنمائی فرمائیں۔
اس حدیث پاک میں بیوی کو کھلانے سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو شوہر اپنی بیوی پر کرتا ہے، چاہے اپنے ہاتھ سے اس کے منہ میں لقمہ ڈالنا ہو، یا اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے اس پرخرچ کرنا ہو، کیونکہ اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ انسان کے ہر خرچ یا عمل کا ثواب اس کی نیت کے مطابق ملتا ہے، اور بیوی پر خرچ کرنا بھی عبادت ہے، بشرطیکہ یہ خرچ اللہ کی رضا کے لیے ہو، یہاں تک کہ بیوی کو نوالہ کھلانا کہ جو عموماً محبت کے لیے ہوتا ہے اور بظاہر کوئی نیکی کا عمل نہیں سمجھا جا تا لیکن یہ بھی اگر نیتِ خیر سے کیا جائے تو اس پر اجر ملے گا۔
صحیح البخاری میں ہے
أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه اللہ إلا أجرت عليها، حتى ما تجعل في فم امرأتك
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس خرچ پر ضرور اجر دیا جائے گا جس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ (صحیح البخاری، صفحہ 26، حدیث: 56، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
منتقی شرح موطا میں ہے
و قوله: و إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه اللہ إلا أجرت بها حتى ما تجعل في في امرأتك يقتضي أن النفقة إذا أريد بها وجه اللہ و التعفف و التستر و أداء الحق و الإحسان إلى الأهل وعونهم بذلك على الخير من أعمال البر التي يؤجر بها المنفق و إن كان ما يطعمه امرأته، و إن كان غالب الحال أن إنفاق الإنسان على أهله لا يهمله و لا يضيعه و لا يسعى إلا له مع كون الكثير منه واجبا عليه
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان: اور تم اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے جو بھی خرچ کرو گے، اس پر تمہیں ضرور اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ نوالہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو" اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو، پاک دامنی اختیار کرنا، ستر پوشی، حق کی ادائیگی، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انہیں اس خرچ کے ذریعے نیکی کے کاموں پر مدد دینا مقصود ہو، تو یہ سب نیک اعمال میں شمار ہوتا ہے، جن پر خرچ کرنے والے کو اجر ملتا ہے، اگرچہ وہ خرچ اپنی بیوی کو کھلانے ہی کی صورت میں ہو۔ حالانکہ عام طور پر انسان کا اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ انہیں نظر انداز نہ کرے، ضائع نہ کرے، اور وہ اپنی محنت و کوشش انہی کے لیے کرتا ہے، اس کے باوجود کہ اس میں سے بہت سا خرچ اس پر شرعاً واجب بھی ہوتا ہے۔ (المنتقى شرح الموطإ، جلد 6، صفحہ 158، مطبعة السعادة، مصر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے
و المعنى أن المنفق لابتغاء رضاه تعالى يؤجر، و إن كان محل الإنفاق محل الشهوة وحظ النفس، لأن الأعمال بالنيات، و نية المؤمن خير من عمله۔۔۔ و فيه استحباب الإنفاق في وجوه الخير، و أنه إنما يثاب على عمله بنيته، و أن الإنفاق على العيال يثاب عليه إذا قصد به وجه اللہ تعالى، و أن المباح إذا قصد به وجه اللہ صار طاعة، فإن زوجة الإنسان من أحظ حظوظه الدنيوية و شهواتها وملاذها المباحة، و وضع اللقمة في فيها إنما يكون في العادة عند الملاعبة و الملاطفة، وهي أبعد الأشياء عن الطاعة و أمور الآخرة، و مع هذا فأخبر النبي - صلى اللہ عليه و سلم - أنه إذا قصد به وجه اللہ تعالى حصل له الأجر، فغير هذه الحالة أولى بحصول الأجر
ترجمہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے خرچ کرتا ہے، وہ ضرور اجر پاتا ہے، اگرچہ خرچ کرنے کی جگہ ایسی ہو جہاں نفسانی خواہش اور ذاتی لذت کا پہلو موجود ہو؛ کیونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے۔ اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا مستحب ہے، اور یہ کہ انسان کو اپنے عمل کا ثواب نیت کے مطابق ہی ملتا ہے۔ اور یہ کہ اہل و عیال پر خرچ کرنا اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے ہو تو اس پر بھی اجر دیا جاتا ہے، اور یہ کہ مباح کام بھی جب اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو عبادت بن جاتا ہے؛ کیونکہ انسان کی بیوی اس کے دنیاوی حصوں، جائز خواہشات اور حلال لذتوں میں سے سب سے بڑی ہوتی ہے، اور اس کے منہ میں نوالہ رکھنا عموماً محبت، دل لگی اور باہمی اُنس و الفت کے موقع پر ہوتا ہے، اور یہ حالت اطاعت اور امورِ آخرت سے بظاہر سب سے زیادہ دور سمجھی جاتی ہے؛ اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے خبر دی کہ اگر اس عمل میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو اجر حاصل ہوتا ہے۔ پس جب اس جیسی حالت میں بھی ثواب ملتا ہے، تو اس کے علاوہ دیگر اعمال میں اللہ کی رضا کی نیت کرنے پر بدرجۂ اولیٰ ثواب ملے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 2036، 2037، مطبوعہ: بيروت)
مراۃ المناجیح میں ہے (بیوی کے منہ میں لقمہ دینے پر بھی ثواب ہے یعنی) اسے کماکرکھلاتا ہے جب کہ ادائے سنت کی نیت سے ہو۔ اس سےمعلوم ہوا کہ نیت خیر سے مباح کام ثواب ہوجاتے ہیں اور عادات عبادات بن جاتی ہیں، عالِم کا سونابھی عبادت ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 505،نعیمی کتب خانہ، گجرات)
مزید اسی میں ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا باعث ثواب ہے۔ جب مباح میں نیت خیر کرلی جائے تو مستحب بن جاتا ہے، مؤمن کی نیت عمل سے افضل ہے، دیکھو بیوی کے منہ میں لقمہ دینا خوشی و محبت کے وقت ہوتا ہے جس میں عبادت کا احتمال بھی نہیں مگر اس پر بھی رب کا وعدہ ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 382، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4610
تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب1447ھ/06 جنوری2026ء