بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ بعض افراد ایسا کرتے ہیں کہ واٹس ایپ یا فیس بک وغیرہ پر کوئی تحریری پوسٹ اچھی لگی تو بغیر اجازت اس سے لکھنے والے کا نام ہٹا کر اپنے نام سے آگے شیئر کرتے ہیں، ان کا ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟
اس سوال کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، جن میں سے چند کی تفصیل مع حکم درج ذیل ہے:
(1) اگر کسی نے فقط حدیث، حکایت یا کسی کتاب کی عبارت کی سادہ پوسٹ بنا کر اپنے نام سے وائرل کی اور دوسرے نے اسی پوسٹ کو اپنے نام سے شیئر کیا، تو فی نفسہٖ اس میں حرج نہیں، کہ عام طور پر اسے محلِ اعتراض نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ پوسٹ کی ڈیزائننگ اور اس سے متعلقہ امور پر دوسرے نے محنت کی ہو، تو بعینہٖ اسی پوسٹ سے اس کا نام ہٹا کر اپنے نام سےشیئر کرنے میں حق تلفی و دل آزاری کا عنصر پایا جا سکتا ہے، اگر کہیں ایسی صورت بن رہی ہو، تو اس اعتبار سے ممانعت کا حکم ہوگا۔
(2) اگر پوسٹ ایسی ہو،جو خاص کسی کا علمی کام ہو اور دوسرا اسے من و عن اپنے نام سے شیئر نہ کرے، بلکہ اس سےکچھ مواد بصورتِ اقتباس اپنی پوسٹ میں نقل کرے یا اسی میں اچھا خاصا علمی اضافہ کر کے باقاعدہ الگ سے پوسٹ تیار کرے، کہ دونوں تحاریر الگ الگ معلوم ہوں یا پھر پوسٹ بنانے والے کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً اجازت ہو کہ اس کے نام کے بغیر کوئی بھی اسے اپنے نام سے شیئر کرسکتا ہے، تو ایسی پوسٹ کو اپنے نام سے شیئر کرنے میں مضائقہ نہیں، جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔ تاہم کسی کی پوسٹ پر اضافہ کرنے کی صورت میں بہتر یہی ہے کہ شرعی و معاشرتی رکاوٹ نہ ہو، تو صاحبِ تحریر کا نام بھی ذکر کردیا جائے، کہ قول کو اس کے اصل قائل کی طرف منسوب کرنا اہل علم و فضل کا شیوہ رہا ہے اور اسی میں علم کی برکت و شکر گزاری بھی ہے۔
(3) پوسٹ کسی علمی و تحقیقی کام پر مشتمل ہو اور بنانے والے کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً بغیر اس کے نام کے شیئر کرنے کی اجازت بھی نہ ہو، تو ایسی پوسٹ سے صاحبِ تحریر کا نام ہٹا کر من و عن بغیر کسی خاطر خواہ اضافے کے اپنے نام سے شیئر کرنا علمی سرقہ و خیانت ہے، جو کہ اخلاقا انتہائی مذموم وصف ہے اور شرعاً بھی جائز نہیں، کہ یہ دھوکہ دہی ہے اور صاحب تحریر کی حق تلفی و دل آزاری کا سبب بھی ہے۔
کسی کے علمی کام کو بلااجازت اپنے نام سے شیئر کرنا دھوکہ دہی ہے اور حدیث پاک میں ہے:
من غشنا فلیس منا
ترجمہ: جس نے ہمیں (مسلمانوں کو) دھوکا دیا وہ ہم (مسلمانوں کے گروہ) میں سے نہیں۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، ص 749، حدیث 2225، دار احیاء الکتب العلمیة، بیروت)
ایسا کرنا علمی خیانت ہے، جبکہ حدیثِ پاک میں ہے:
يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة و الكذب
ترجمہ: مومن کی طبیعت میں ہر خصلت ہوسکتی ہے، سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ (مسند أحمد، ج 36، ص 504، حدیث 22170، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
علم کی برکت یہ ہے کہ اس کی نسبت قائل کی طرف کی جائے، جبکہ کسی دوسرے کی بات اپنی طرف منسوب کرنا بددیانتی و خیانت ہے اور یہ علم کی برکت سے محرومی کا سبب بھی ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن برکۃ العلم عزوہ لقائلہ، من سرق في تصنيفه تصانيف الناس من غير عزو إليهم لم ينتفع به، لأن بركة العلم هي الانتفاع به، و شرط حصول ذلك أداء الأمانة و الصدق، فإذا فقد هذا الشرط تخلفت البركة، و عدم الانتفاع
ترجمہ: بلاشبہ علم کی برکت یہ ہے کہ قول کو اسکے قائل کی طرف منسوب کیا جائے۔ جس نے بھی اپنی تصنیف میں لوگوں کی تصانیف سے چوری کی، ان کا حوالہ دیے بغیر، تو اس کی وہ تصنیف نفع بخش ثابت نہ ہوئی، کیونکہ علم کی برکت اس کا نفع بخش ہونا ہے، اور اس کے حصول کے لیے یہ شرط ہے کہ امانت کی ادائیگی کی جائے اور سچ بولا جائے، پس جب یہ شرط نہیں پائی گئی تو برکت پیچھے رہ گئی اور نفع ختم ہوگیا۔ (مرقاة الصعود إلى سنن أبي داود، ج 2، ص 829، مطبوعہ بیروت)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
فأوردتها بنصها معزوة إلى قائلها، لأن بركة العلم عزو الأقوال إلى قائلها، و لأن ذلك من أداء الأمانة، و تجنب الخيانة، و من أكبر أسباب الانتفاع بالتصنيف
ترجمہ: میں نے ان علمی باتوں کو ان کے اصل الفاظ کے ساتھ، ان کے قائلین کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کیا ہے، کیونکہ علم کی برکت اسی میں ہے کہ اقوال کو ان کے قائلین کی طرف منسوب کیا جائے، اور چونکہ اس میں امانت کی ادائیگی اور خیانت سے اجتناب کرنا ہے، اور یہی تصنیف کے نفع بخش ہونے کا ایک بڑا سبب ہے۔ (عقود الزبرجد على مسند الإمام أحمد، ج 1، ص 71، دار الجیل، بیروت)
کسی سے استفادہ کیا ہو تو اسی کے نام سے آگے بیان کرنا علم کی شکر گزاری ہے، امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حدثنا العباس بن محمد الدوري قال: سمعت أبا عبيد يقول: من شكر العلم أن تستفيد الشيء، فإذا ذكر لك قلت: خفي علي كذا و كذا، و لم يكن لي به علم، حتى أفادني فلان فيه كذا و كذا، فهذا شكر العلم
ترجمہ: عباس بن محمد دوری نے ہمیں بیان کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عبید کو یہ کہتے ہوئے سنا: علم کی شکر گزاری یہ ہے کہ جب تم کچھ استفادہ کرو، اور پھر اس کا تمہارے سامنے تذکرہ کیا جائے، تو تم یوں کہو: یہ یہ بات مجھ پر مخفی تھی، مجھے اس کا علم نہیں تھا، یہاں تک کہ فلاں شخص نے مجھے اس بارے میں فلاں فلاں فائدہ پہنچایا۔ یہی علم کی شکرگزاری ہے۔ (المزهر في علوم اللغة و أنواعها، ج 2، ص 273، دار الکتب العلمیة، بیروت)
قول کو اس کے اصل قائل کی طرف منسوب کرنا اہل علم و فضل کا شیوہ رہا ہے، امام ابو زکریا یحیی بن شرف النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
و من النصيحة أن تضاف الفائدة التي تستغرب إلى قائلها، فمن فعل ذلك بورك له في علمه و حاله، و من أوهم ذلك و أوهم فيما ياخذه من كلام غيره أنه له، فهو جدير أن لا ينتفع بعلمه، و لا يبارك له في حاله. و لم يزل أهل العلم و الفضل على إضافة الفوائد إلى قائلها
ترجمہ: خیر خواہی میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی بھی انوکھا علمی نکتہ (جب بیان کیا جائے، تو اسے) اس کے اصل قائل کی طرف ہی منسوب کیا جائے۔ تو جو بھی ایسا کرے گا، اس کے علم اور حال میں برکت ہوگی۔ جبکہ جو شخص ایسا نہ کرے اور دوسروں سے اخذ کردہ کلام کو اپنا کلام ظاہر کرے، تو ایسا شخص اس بات کا مستحق ہے کہ نہ تو اس کا علم نفع بخش ہو، اور نہ ہی اس کے حال میں برکت ہو۔ اہلِ علم و فضل کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ علمی فوائد کو اُن کے کہنے والے کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔ (بستان العارفین، ص 16، دار الریان للتراث)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7701
تاریخ اجراء: 25 جمادی الاخری 1447ھ / 17 دسمبر 2025ء