logo logo
AI Search

غیر عالم کو مولانا کہنا جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

غیر عالم کو مولانا کہنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

حضرت مولانا، مولانا صاحب، مولوی صاحب یہ تمام الفاظ درسِ نظامی سے فارغ التحصیل عالم کےلئے مخصوص نہیں ہیں اور نہ ہی ان الفاظ کا لغوی و حقیقی معنی عالم کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ لغت و عرف دونوں میں اس کا معنی و استعمال بہت وسیع ہے۔ یہ الفاظ اردو زبان میں ادب و احترام کے وہ الفاظ ہیں جو کہ ہمارے (پاک و ہند کے) عرف میں بالعموم صاحبانِ علم، درس نظامی سے فارغ التحصیل علمائے کرام اور کبھی کبھار درسِ نظامی کے طلبائے کرام اور ان سب سے زیادہ دینی مقتداؤں، مذہبی پیشواؤں، وعظ و تقریر سے وابستہ افراد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ عالمِ دین ہونے کے لیے درسِ نظامی مکمل کرنا، یا کسی ادارے سے سند یافتہ ہونا لازمی شرط نہیں، بلکہ اصل معیار علمِ دین ہے۔ لہذا جو شخص دینی عقائد کا اچھی طرح علم رکھتا ہو اور اپنے ضروری دینی مسائل معتبر کتابوں سے خود نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو،تو اُسے عالمِ دین کہا جا سکتا ہے اگرچہ اس نے باقاعدہ درسِ نظامی مکمل نہ کیا ہو اور اگرچہ اس کے پاس درس نظامی کی کوئی سرٹیفکیٹ نہ ہو۔

اس تفصیل کی روشنی میں سوال کا جواب یہ ہے کہ

جو شخص باقاعدہ درسِ نظامی کا فارغ التحصیل نہ ہو لیکن علمِ دین کے اعتبار سے واقعی عالم دین ہو، یا عالمِ دین تو نہ ہو مگر کسی معتبر دینی حلقے میں پابندِ شریعت دینی رہنما و پیشوا کی حیثیت رکھتا ہو، یا اپنی مذہبی وضع قطع، دعوت و اصلاح، وعظ و تقریر اور دیگر دینی خدمات کی بنا پر مقامی عرف میں اس کے نام کے ساتھ حضرت مولانا کہا اور لکھا جاتا ہو، تو ایسے شخص کے نام کے ساتھ تعظیم و احترام کی نیت سے حضرت مولانا کہنا، لکھنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

غیرِ عالم کو مولانا کہنے سے متعلق فتاوی جامعہ اشرفیہ میں سوال ہوا کہ کیا کسی ناظرہ خواں کو مولانا کہا جاسکتا ہے؟ لوگ اس کو مولانا کہہ کر بلائیں اور وہ مولانا کہنے سے خوش بھی ہو، تو اس شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب ارشاد فرمایا: بےپڑھے لکھے، جس کی بھی داڑھی ہوتی ہے، یا شریعت کا پابند ہوتا ہے، اس کو مولانا کہتے ہیں، اس عرف کے اعتبار سے لوگ امام صاحب کو مولانا کہتے ہیں، خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ وہ امام بھی ہو،وعظ و تقریر بھی کرتا ہو، تو (مولانا بولنے میں) کوئی حرج نہیں۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5۔ صفحہ 525، 524، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی)

عالم کون ہوتا ہے؟ اس حوالے سے ملفوظات اعلی حضرت میں ایک سوال ہے کہ عالِم کی کیا تعریف ہے؟

اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: عالِم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مُستَقِل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے۔

مزید سوال ہوا کہ کیا کُتُب بینی (یعنی کتابیں پڑھنے) ہی سے علم حاصل ہوتا ہے؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: یہی نہیں بلکہ علم اَفواہِ رِجال (یعنی علم والوں سے گفتگو کر کے اور مسائل معلوم کرنے) سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ 58، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: سند کوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی،(لہذا) علم ہونا چاہئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 683، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1241
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء