بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
بچیوں کا گڑیا سے کھیلنا کیسا؟
بچیوں کا گڑیا وغیرہ سے کھیلنا جائز ہے، مگر انہیں تعظیم کی جگہ جیسے الماری یا شوکیس وغیرہ پر سجا کر رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: رہا یہ امر کہ ان کھلونوں کا بچوں کو کھیلنے کے لئے دینا اور بچوں کا ان سے کھیلنا یہ ناجائز نہیں کہ تصویر کا بروجہِ اعزاز مکان میں رکھنا منع ہے نہ کہ مطلقاً یا بروجہ اہانت بھی۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 4، صفحہ 233، مکتبہ رضویہ، کراچی)
مراۃ المناجیح میں ہے اور فرش و بستر کی تصاویر جو پاؤں سے روندی جاویں جائز ہیں ان کی وجہ سے فرشتے آنے سے نہیں رکتے۔ بچوں کی گڑیاں، ان سے کھیلنا بچوں کے لیے جائز ہے۔۔۔ بچیوں کا گڑیاں بنانا، ان سے کھیلنا درست ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 194، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4618
تاریخ اجراء: 17رجب المرجب1447ھ / 07 جنوری2026ء