بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
ہمارے یہاں جادو کے نام پر کچھ کھیل، تماشے ہوتے ہیں جس میں وہ ہاتھ کی صفائی سے کچھ کھیل تماشے دکھاتے ہیں، اصل جادو نہیں ہوتا، اس طرح کے تماشے دیکھنے کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟
تماشوں میں اگرچہ جادو نہیں ہوتا۔ البتہ دھوکہ وغیرہ دیگر خرافات کی وجہ سے یہ بھی جائز نہیں۔
امام اہلسنت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اعمال جس میں کچھ نہ ہوں جیسے آج کل کے بھانمتی (یعنی مداری) تماشے کرتے ہیں اس میں محض ہتھ پھیری ہوتی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں: ’’یہ بھی حرام ہے کہ اس میں دھوکا دینا ہے اور دھوکا دینا شریعت پسند نہیں فرماتی۔ حدیث میں ہے:
مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔
وہ ہم میں سے نہیں جو دھوکا دے۔ (ملفوظات اعلٰحضرت، صفحہ 476 - 477، مطبوعہ المدینۃ العلمیہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2337
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1446ھ / 12 مئی 2025ء