logo logo
AI Search

نظر بد صرف انسان کی لگتی ہے یا جنات کی بھی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نظر بَد کس کس کی لگ سکتی ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا نظر بَد صرف انسان ہی کی لگتی ہے یا کسی اور مخلوق کی بھی نظر لگ سکتی ہے؟

جواب

نظر بد صرف انسان ہی کی نہیں لگتی، بلکہ جنات کی بھی لگتی ہے، اور جنات کی نظربد، انسان کی نظر بد سے زیادہ تاثیر والی ہوتی ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم انسانوں اور جنات کی بری نظر سے پناہ مانگتے تھے، اور علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ نے ایک صحابی رسول (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کو جنات کی بری نظر لگی اور یہی ان کے انتقال کا سبب بنا۔

سنن الترمذی میں ہے

”عن أبي سعيد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان“

ترجمہ: حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جنات اور انسان کی نظرِ بد سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (یعنی سورہ فلق و ناس) نازل ہوئیں۔ (سنن الترمذی، صفحہ772، حدیث: 2058، دار ابن کثیر)

علامہ عبد الرؤوف مناوی علیہ الرحمۃ اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”(كان يتعوذ من الجان) أي يقول أعوذ بالله من الجان (وعين الانسان) من ناس ينوس اذا تحرك و ذا يشترك فيه الانس و الجن وعين كل ناظر“

 ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے یعنی آپ یوں دعا کیاکرتے تھے :"اعوذ باللہ من الجان" (میں جنات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں)۔ اور انسان کی نظر سے پناہ مانگتے تھے، یہاں انسان (سے خاص ابن آدم  مراد نہیں ہے بلکہ یہاں  یہ لغوی معنی میں ہے، جس) کا مطلب ہے متحرک (حرکت کرنے والا) اور اس میں انسان، جنات سبھی شامل ہیں اور یہاں نظر سے ہر دیکھنے والے کی نظر مراد ہے (خواہ آدمی ہو یا جن)۔ (التیسیر  بشرح الجامع الصغیر، جلد  2، صفحہ 270، مطبوعہ: الریاض)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”سورۂ فلق اور سورۂ ناس نازل ہونے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم جن وانس کی نظر سے بچنے کے لیے مختلف دعائیں پڑھتے تھے۔ مثلًا اعوذ باللّٰہ من الجان وغیرہ یا اعوذ باللہ من عین الانسان الحاسد۔(مراۃ المناجیح، جلد  6، صفحہ 245، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

صحیح البخاری میں ہے

”عن أم سلمة، رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى في بيتها جارية في وجهها سفعة، فقال: استرقوا لها، فإن بها النظرة“

ترجمہ: حضرت ام ِسلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی، جس کے چہرے پر سرخی مائل سیاہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اسے دم کرو، کیونکہ اسے نظر لگ گئی ہے۔ (صحیح البخاری، صفحہ1067، حدیث: 5739، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمہ (المتوفی: 855) فرماتے ہیں:

”(فإن بها النظرة) أي: أصابتها عين،۔۔وقال ابن قرقول: ۔۔۔۔أي: عين من نظر الجن، وقال أبو عبيد: أي: أن الشيطان أصابها وقال الخطابي: عيون الجن أنفذ من الأسنة، ولما مات سعد سمع قائل من الجن يقول: (نحن قتلنا سيد الخزرج سعد بن عبادة ... ورميناه بسهم فلم يخط فؤاده) قال: فتأوله بعضهم أي: أصبناه بعين

ترجمہ: یعنی اس کو نظر لگ گئی ہے۔ ابن قرقول نے کہا: یعنی جنات کی نظر لگی گئی ہے۔ اور ابو عبید نے کہا: یعنی شیطان نے اس کو متاثر کیا ہے۔ خطابی نے کہا: جنات کی نظریں نیزوں کی نوک سے بھی زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور جب سعد (بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ) کا انتقال ہوا، تو جنات میں سے ایک کہنے والے کی آواز سنی گئی کہ 'ہم نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کیا، اور ہم نے اس کے دل کو نشانہ بنا کر تیر مارا، جو خطا نہیں ہوا۔' بعض لوگوں نے اس کی تاویل یوں کی کہ: ہم نے اسے نظربد لگائی ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد21، صفحہ 266، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یا خان نعیمی علیہ الرحمۃ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ”علماء فرماتے ہیں کہ جنات کی نظر انسانی نظر سے سخت تر ہوتی ہے (اشعہ)۔ مرقات نے فرمایا کہ جنات کی نگاہ نیزے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 6،صفحہ 368، نعیمی کتب خانہ، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4635
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/14جنوری2026ء