logo logo
AI Search

اسلامی مہینوں کی مبارکباد دینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلامی مہینوں کی مبارکباد دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اسلامی مہینوں کی مبارکباد دینا کیسا ہے؟ جیسے رجب، شعبان، رمضان وغیرہ کی مبارکباد دی جاتی ہے، کیا یہ شرعی طور پر درست ہے؟

جواب

نئے اسلامی مہینے کی مبارکباد دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ در حقیقت یہ دوسرے مسلمان کے لیے دعا ہے کہ یہ نیا مہینہ اس کے حق میں بابرکت ہو اور خیر و عافیت کے ساتھ گزرے، اور چونکہ شریعت مطہرہ نے اس سے منع نہیں فرمایا، تو یہی اس کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے، بلکہ رمضان المبارک کے مہینے کی مبارکباد دینا تو حدیث پاک سے ثابت ہے، یوں ہی عید و نکاح وغیرہ کی بھی۔ اسی بنا پر علمائے کرام نے ایسے مواقع پر مبارکباد دینے کو مشروع بلکہ مستحب قرار دیا ہے، جہاں شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو اوروہاں مبارکباددینا مسلمان کی خوشی و فرحت کا سبب ہو۔ مزید یہ کہ باہم ایک دوسرے کو دعا دینا نہایت اچھا عمل ہے کیونکہ یہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے ساتھ بھلائی، خیر خواہی اور نفع رسانی ہے، جس کی حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے۔ نیز شرعاً یہ اصول مسلَّم ہے کہ ہر جائز کام جو اچھی نیت سے کیا جائے وہ باعث ثواب بن جاتا ہے، لہذا نئے اسلامی ماہ کی مبارک دینا نہ صرف جائز اور مستحسن، بلکہ خیر خواہی اور مسلمان کی دل جوئی کی نیت کے ساتھ یہ باعث اجر و ثواب بھی ہے۔

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:

الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة

ترجمہ: اشیاء میں اصل مباح ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه و النظائر، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ میں ہے

و كذلك نقل القليوبي عن ابن حجر أن التهنئة بالأعياد والشهور والأعوام مندوبة. قال البيجوري: و هو المعتمد

ترجمہ: اور اسی طرح علامہ قلیوبی نے حافظ ابن حجر سے نقل کیا ہے کہ عیدوں، مہینوں اور سالوں پر مبارکباد دینا مستحب ہے۔ علامہ بیجوری نے کہا: اور یہی قول معتمد ہے۔(الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 14، صفحہ 100، دار السلاسل، الكويت)

اسی میں ہے

التهنئة مستحبة في الجملة؛ لأنها مشاركة بالتبريك و الدعاء من المسلم لأخيه المسلم فيما يسره و يرضيه و لما في ذلك من التواد و التراحم و التعاطف بين المسلمين... و التهنئة تكون بكل ما يسر ويسعد مما يوافق شرع اللہ تعالى، و من ذلك: التهنئة بالنكاح و التهنئة بالمولود و التهنئة بالعيد و الأعوام و الأشهر

ترجمہ: مبارکباد دینا مجموعی طور پر مستحب ہے؛ کیونکہ یہ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ مبارکباد اور دعا کے ذریعے اس معاملے میں شریک ہونا ہے جو اسے خوشی دے اور اسے پسند آئے؛ اور اس لیے کہ یوں مبارکباد دینے میں مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی کا پہلو ہوتا ہے۔ اور مبارکباد اللہ تعالیٰ کی شریعت کے موافق امور میں ہر اس چیز پر دی جا سکتی ہے جو خوشی اور سعادت مندی کا باعث ہو، اور اس میں نکاح پر مبارکباد دینا، پیدائش پر مبارکباد دینا، اور عیدوں، سالوں اور مہینوں پر مبارکباد دینا شامل ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 14، صفحہ 97، دار السلاسل، الكويت)

علامہ محمد بن محمد ابن امیر حاج حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 879ھ / 1474ء) لکھتے ہیں:

قد ورد الدعاء للانسان بالبركة في أمور شتى، فيوجد منه استحباب الدعاء له بها في هذا أيضا، ففي سنن أبي داود والنسائي من حديث عبد اللہ بن أبي ربيعة مرفوعاً:  بارك اللہ لك في مالك و أخرج الترمذي عن عقيل بن أبي طالب أنه تزوج امرأة، فقيل له: بالرفاه و البنين فقال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم يقول: إذا تزوج أحدكم فقولوا له: بارك اللہ فيك و بارك عليك

ترجمہ: آدمی کے لیے مختلف امور میں برکت کی دعا وارد ہوئی ہے، تو اسی سے یہاں بھی اس کے لیے برکت کی دعا کا استحباب حاصل ہوتا ہے۔ پس سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں حضرت عبد اللہ بن ابی ربیعہ کی مرفوع حدیث میں ہے: اللہ تمہیں تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے۔ اور امام ترمذی نے حضرت عقیل بن ابی طالب سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ان سے کہا گیا:

بالرفاه و البنين

(یعنی اتحاد و یگانگت اور بیٹوں کی خوشی نصیب ہو)، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی نکاح کرے تو اس سے یوں کہو:

بارك اللہ فيك و بارك عليك

(یعنی اللہ پاک تمہیں اس میں خیر و برکت والا کرے اور تمہیں برکت دے)۔ (حلبة المجلی في شرح منية المصلي، فصل في صلاۃ العید، جلد 2، صفحہ 552، دار الكتب العلمية، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:  اور شک نہیں کہ ہر مباح بہ نیت محمودہ محمود و قربت ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

انما الاعمال بالنیات و لکل امرئ ما نوی

(یعنی: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 249، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 911ھ / 1505ء) لکھتے ہیں:

ان الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور و السنين: أ هو بدعة أم لا؟ فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك، قال: و الذي أراه أنه مباح ليس بسنة و لا بدعة

ترجمہ: حافظ ابو الحسن مقدسی سے مہینوں اور سالوں کے آغاز میں مبارکباد دینے کے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا یہ بدعت ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ لوگ اس مسئلے میں ہمیشہ سے اختلاف کرتے رہے ہیں، فرمایا: اور جو بات مجھے مناسب لگتی ہے، وہ یہ ہے کہ مہینوں اور سالوں کے آغاز میں مبارکباد دینا مباح ہے، (یعنی) نہ سنت ہے اور نہ بدعت۔ (وصول الأماني بأصول التهاني، صفحہ 52، دار الامام احمد، القاھرۃ)

علامہ ابو یحی زکریا انصاری شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 926ھ / 1520ء) مذکورہ بالا کلام نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

و أجاب عنه شيخنا حافظ عصره الشهاب ابن حجر بعد اطلاعه على ذلك بأنها مشروعة و احتج له بأن البيهقي عقد لذلك بابا ... ثم قال و يحتج لعموم التهنئة لما يحدث من نعمة أو يندفع من نقمة بمشروعية سجود الشكر و التعزية و بما في الصحيحين عن كعب بن مالك في قصة توبته لما تخلف عن غزوة تبوك أنه لما بشر بقبول توبته و مضى إلى النبي صلى اللہ عليه و سلم قام إليه طلحة بن عبيد اللہ فهنأه

ترجمہ: اور ہمارے شیخ، حافظِ عصر، شہاب ابن حجر عسقلانی نے اس پر مطلع ہونے کے بعد اس (مذکورہ بالا سوال) کے جواب میں فرمایا کہ مہینوں اور سالوں کے آغاز میں مبارکباد دینا مشروع ہے، اور انہوں نے اس پر یہ دلیل دی کہ امام بیہقی نے اس کے لیے ایک باب قائم کیا ہے، پھر علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: سجدۂ شکر اور تعزیت کی مشروعیت سے کسی بھی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی مصیبت کے دور ہو جانے پر مبارکباد دینے کے عمومی جواز پر استدلال کیا گیا ہے، اور اس سے جو صحیحین میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توبہ کے واقعے میں آیا ہے کہ جب وہ غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے (پھر) جس وقت انہیں ان کی توبہ قبول ہونے کی خوش خبری دی گئی، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور انہیں مبارکباد دی۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب، كتاب صلاة العيدين، جلد 2، صفحہ 210، دار الكتب العلمية، بيروت)

نفس اباحت سے آگے، مہینوں کی مبارکباد دینے کی اصل خود حدیث میں موجود ہے، چنانچہ مسند امام احمد، مصنف ابن ابی شیبہ اور کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے

عن أبي هريرة قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يبشر أصحابه: قد جاءكم رمضان، شهر مبارك، افترض اللہ عليكم صيامه

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس رمضان آ گیا ہے، یہ برکت والا مہینہ ہے، اللہ (عزوجل) نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ (مسند أحمد، جلد 14، صفحہ 541، حدیث: 8991، مؤسسة الرسالة)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1606ء) لکھتے ہیں:

و هو أصل في التهنئة المتعارفة في أول الشهور بالمباركة

ترجمہ: اور یہ حدیث مہینوں کے آغاز میں برکت کی دعا کے ساتھ رائج مبارکباد کے بارے میں اصل ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصوم، جلد 4، صفحہ 1365، مطبوعہ: بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کی آمد پر خوش ہونا، ایک دوسرے کو مبارکباد دینا سنت ہے۔  (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 137، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4638
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب1447ھ / 13 جنوری2026ء