logo logo
AI Search

کیا مسلمان نابالغ فوت شدہ بچے جنتی ہوتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا مسلمانوں کے نابالغ فوت ہونے والے بچے جنت میں ہوتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسلمان کے نابالغ فوت ہونے والے بچے جنت میں ہوتے ہیں؟

جواب

مسلمانوں کے جو بچے نابالغی کی حالت میں انتقال کرجائیں، تو وہ جنت میں ہوں گے۔ اس پر کثیر احادیث مروی ہیں اور اس کے متعلق اجماع تک منقول ہے۔

صحیح بخاری کی حدیث پاک میں ہے:

قال أبو هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ و سلم من مات له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث كان له حجابا من النار أو دخل الجنة

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جس شخص کے تین ایسے بچے وفات پا گئے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے تھے، تو وہ (بچے) اس کے لیے جہنم کی آگ سے مضبوط ڈھال بن جائیں گے، یا (آپ نے فرمایا) وہ شخص جنت میں داخل ہوگا (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 100، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

اس حدیث کے تحت علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

فيدل هذا على ان اولاد المسلمين الأطفال من أهل الجنة

ترجمہ: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کےچھوٹے بچے اہل جنت میں سے ہیں۔ (عمد ۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 8، صفحہ 210، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

محیط برہانی میں ہے:

أن أولاد المسلمين إذا ماتوا حال صغرهم قبل أن يعقلوا يكونون في الجنة، فإن فيهم أحاديث كثيرة أكثرها من المشاهير، وبالأحاديث تبين أنهم قالوا: بلى يوم أخذ الميثاق عن اعتقاد

ترجمہ: مسلمانوں کے بچے جب اپنی کم سنی میں، سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جائیں، تو وہ جنت میں ہوں گے۔ کیونکہ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں سے اکثر ’’مشہور“ (کے درجے کی) ہیں۔ اور احاديث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب اُن سے (اللہ کی ربوبیت کے متعلق) عہد لیا گیا تو انہوں نے پورے یقین سے کہا کیوں نہیں (یعنی اللہ ہی ہمارا رب ہے)۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 186، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)

علامہ طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:

اولاد المسلمين إذا ماتوا في صغرهم كانوا في الجنة

ترجمہ: مسلمانوں کے بچے جب کم سنی کی عمر میں فوت ہوجائیں، تو وہ جنت میں ہوں گے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 595، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

مسلمانوں کے نابالغ فوت ہونے والے بچے جنت میں ہوں گے، اس کے متعلق اجماع تک کتابوں میں مذکورہے، جیساکہ الاجماع لابن عبد البر، عمدۃ القاری، فتح الباری، ارشاد الساری، شرح النووی علی مسلم ،شرح الزرقانی علی المؤطامیں ہے،

و اللفظ للاول:  قد اجمع العلماء على ما قلنا من أن أطفال المسلمين في الجنة

ترجمہ: علماء کا ہمارے اس قول پر اجماع ہے کہ مسلمانوں کے(نابالغ فوت شدہ ) بچے جنت میں ہوتے ہیں۔ (الاجماع لابن عبد البر، صفحہ 378، مطبوعہ ریاض)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9638
تاریخ اجراء: 29 جمادی الاولی 1447ھ / 21 نومبر 2025ء