مکروہِ تحریمی اور مکروہِ تنزیہی میں فرق

مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی میں کیا فرق ہے؟

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی میں کیا فرق ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی دونوں فقہی اصطلاحات(Terminologies) ہیں، جن کے درمیان حکم کے اعتبار سے فرق یہ ہے کہ مکروہ تحریمی کا ارتکاب کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے اور چند بار اس کا کرنا گناہ کبیرہ ہے، لہذا اس سے بچنا لازم ہے؛ کہ یہ واجب کا مقابل ہے اور کسی عبادت میں اس کا ارتکاب اس عبادت کو ناقص بنا دیتا ہے۔ جبکہ مکروہ تنزیہی کا ارتکاب کرنے والا گناہ گار نہیں ہوتا، لیکن اس سے بچنا بہتر ہے؛ کہ یہ سنتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے اور شریعت مطہرہ کو اس کا کرنا پسند نہیں۔

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

فان المکروہ تحریما منھی عنہ و ارتکابہ اثم و معصیۃ و ان کانت صغیرۃ کما نص علیہ فی البحر و الدر و غیرہما و بالاعتیاد یصیر کبیرۃ...بخلاف المکروہ تنزیہا فانہ من المباح و لیس من المعصیۃ قطعا

ترجمہ: پس مکروہ تحریمی ممنوع ہوتا ہے اور اس کا کرنا گناہ و معصیت ہے، اگرچہ گناہ صغیرہ ہے، جیسا کہ اس پر البحرالرائق اور در مختار و غیرہما میں تصریح فرمائی گئی، اور عادت ڈالے سے یہ گناہ کبیرہ ہو جاتا ہے، بخلاف مکروہ تنزیہی کے؛ کہ وہ مباح میں سے ہے اور ہرگز معصیت میں سے نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحه 473، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مکروہ تحریمی کے متعلق لکھتے ہیں: ”ہر مکروہ تحریمی گناہ و معصیت صغیرہ ہے۔... مکروہ تحریمی مطلقاً گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں۔“ نیز مکروہ تنزیہی کے متعلق لکھتے ہیں: ” کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے، نہ سنت مؤکدہ کے ،بلکہ سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے۔... مکروہ تنزیہی اصلاً گناہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 2، صفحه 905 و 907 و 917، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”مکروہ تحریمی: یہ واجب کا مقابل ہے، اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے، اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے، اور چند بار اس کا ارتکاب کبیرہ ہے۔... مکروہ تنزیہی: جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں، مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔یہ سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 283-284، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-776

تاریخ اجراء: 15 ذو الحجة الحرام 1446ھ / 12 جون 2025ء