بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رجال الغیب سے کون سے لوگ مراد ہیں؟
اولیائے کرام علیہم الرحمۃ کے ایک طبقے کو رجال الغیب کہتے ہیں، یہ دس حضرات ہوتے ہیں، کم و بیش نہیں ہوتے، ہمیشہ ان کے احوال پر انوارِ الہٰی کا نزول رہتا ہے، یہ اہلِ خشوع ہوتے ہیں اور سرگوشی میں بات کرتے ہیں، یہ مستور (یعنی نظروں سے اوجھل) رہتے ہیں، زمین و آسمان میں چھپے رہتے ہیں، ان کی مناجات صرف حق تعالیٰ سے ہوتی ہے اور ان کے شہود کا مرکز بھی وہی ذاتِ بے مثال ہوتی ہے، اہل اللہ جب بھی لفظ رجالُ الغیب استعمال فرماتے ہیں تو ان کی مراد یہی حضرات ہوتے ہیں۔
کبھی اس لفظ سے وہ انسان بھی مراد لئے جاتے ہیں، جو نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اور کبھی رجالُ الغیب سے نیک اور مومن جنّ بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ اور کبھی ان لوگوں کو بھی رجالُ الغیب کہہ دیا جاتا ہے، جو علم اور رزقِ محسوس، حِسّی دنیا سے نہیں لیتے بلکہ انہیں رزق وعلم، غیبی دنیا سے ملتا ہے۔
علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
”فمنهم رضى الله عنهم رجال الغيب وهم عشرة لا يزيدون ولا ينقصون، هم أهل خشوع فلا يتكلمون إلا همسا لغلبة تجلى الرحمن عليهم دائما في أحوالهم، قال تعالى: (وخشعت الأصوات للرحمن فلا تسمع إلا همسا) وهؤلاء هم المستورون الذين لا يعرفون، خبأهم الحق في أرضه وسمائه، فلا يناجون سواه، ولا يشهدون غيره (يمشون على الأرض هونا وإذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما)۔۔۔ واعلم أن لفظ رجال الغيب في اصطلاح أهل الله يطلقونه ويريدون به هؤلاء الذين ذكرناهم، وهي هذه الطبقة، وقد يطلقونه ويريدون به من يحتجب عن الأبصار من الإنس، وقد يطلقونه أيضا ويريدون به رجالا من الجن من صالحي مؤمنيهم، وقد يطلقونه على القوم الذين لا يأخذون شيئا من العلم والرزق المحسوس من الحس، ولكن يأخذونه من الغيب“
ترجمہ: اولیائے کرام رضی اللہ تعالی عنھم میں رجال الغیب بھی ہوتے ہیں، یہ دس حضرات ہوتے ہیں، کم و بیش نہیں ہوتے، ہمیشہ ان کے احوال پر انوارِ الہٰی کا نزول رہتا ہے، لہٰذا یہ اہلِ خشوع ہوتے ہیں، اور سرگوشی میں بات کرتے ہیں، اللہ کریم جل مجدہ کا ارشاد عالی ہے: (اور سب آوازیں رحمٰن کے حضو رپست ہوکر رہ جائیں گی، تو تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز)۔ اور یہ مستور (یعنی نظروں سے اوجھل) رہتے ہیں جنہیں کوئی نہیں پہچانتا، اللہ تعالی نے انہیں زمین و آسمان میں چھپا رکھا ہے، ان کی مناجات صرف حق تعالیٰ سے ہوتی ہیں، اور ان کے شہود کا مرکزبھی وہی ذاتِ بے مثال ہوتی ہے، ارشاد ہے: (زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام)۔اور جان لو کہ !اہل اللہ کی اصطلاح میں لفظ رجال الغیب کا اطلاق انہیں افراد پر ہوتا ہے اور وہ اس لفظ سے انہیں کو مراد لیتے ہیں، جن کا ہم نے ذکر کیا، اور وہ یہی طبقہ ہے۔ اورکبھی اس لفظ سے وہ انسان بھی مراد لئے جاتے ہیں، جو انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، اور کبھی رجالُ الغیب سے نیک اور مومن جنّ بھی مراد لئے جاتے ہیں۔اور کبھی ان لوگوں کو بھی رجالُ الغیب کہہ دیا جاتا ہے، جو علم اور رزقِ محسوس حِسّی دنیا سے نہیں لیتے بلکہ غیب کی دنیا سے علم و رزق انہیں ملتا ہے۔ (جامع کرامات الاولیاء، جلد1، صفحہ74، مطبوعہ: الھند)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4627
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/09جنوری2026ء