logo logo
AI Search

لڑکی کے رشتے کے بدلے رقم مانگنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لڑکی کا رشتہ دینے کے عوض رقم کا مطالبہ کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ لڑکی کے والدین جب اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرنا چاہتے ہیں، تو لڑکے والوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں 2 یا 3 لاکھ روپےلڑکی والوں کی برادری کو کھانا کھلانے کے لیے دیں، اگر یہ رقم نہ دی جائے، تو لڑکی والے اکثر رشتہ سے انکار کر دیتےہیں اور اگر کبھی انکار نہ کریں تو ناراضگی ضرور پائی جاتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ لڑکی والوں کا اس رقم کا مطالبہ کرنا کیسا؟ یہ رقم بطور حق مہر نہیں ہوتی۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں لڑکی کے والدین کا اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کےعوض برادری کو کھانا کھلانے کے لیے رقم کا مطالبہ کرنا اور لڑکےیا اس کے والدین کا رشتہ لینے کی خاطر رقم دینا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے، کیونکہ فقہائے کرام نے اسے رشوت قرار دیا ہےاور رشوت کا لین دین اسلام میں ناجائز و حرام اور باعثِ لعنت فعل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پر لعنت فرمائی ہے، نیز رشتہ لینے کی خاطر دی جانے والی رقم ،وصول کرنے والےکی ملکیت میں نہیں آئے گی، بلکہ ایسا مال دینے والے کی ملکیت میں ہی رہے گا، لہٰذا رقم لینے والے پر لازم ہوگا کہ وہ یہ رقم دینے والے کو واپس کرے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرےاور آئندہ بچنےکاپختہ ارادہ بھی کرے۔

نوٹ: اگر کسی شخص نےعورت کے والدین کو مال دےکر عورت سے نکاح کرلیا، تو اگرچہ وہ گنہگارہوگا، لیکن اگرنکاح کی تمام شرائط پائی گئیں، تو نکاح ہوجا ئے گا، اس سے نکاح کے جوازپر کوئی فر ق نہیں پڑےگا۔ رشوت کا مال کھانے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ

ترجمہ کنز الایمان:  بڑے جھوٹ سننے والے ، بڑے حرام خور۔(القرآن الکریم، پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 42)

مذکورہ بالاآیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں:

اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشاء حرام، و اتفقو انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی

ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کی وجہ سےتمام مفسرین کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بے شک رشوت قبول کرنا حرام ہے اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا کہ رشوت اس "سُحت" میں سے ہے،جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 541، دار الكتب العلميہ، بيروت)

رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے لعنت فرمائی، چنانچہ سنن ابی داؤدمیں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم الراشی و المرتشی

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔ (سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الرشوۃ، جلد 3، صفحہ 300، المکتبۃ العصریہ)

لڑکی کےنکاح کے بدلے، لڑکے یا اس کے والدین سےرقم وصول کرنا رشوت ہے، چنانچہ بحرالرائق شرح کنزالدقائق،فتاوٰی خیریہ، مجمع الضمانات اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

و النظم للآخر:خطب امرأۃً فی بیت اخیھا فابی ان یدفعھا حتی یدفع اليہ دراھم فدفع و تزوجھا، یرجع بما دفع لانھا رشوۃ، کذا فی القنیۃ

ترجمہ: عورت کہ جو اپنے بھائی کے گھر میں تھی، اسےکسی شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا، تو اس کے بھائی نے نکاح سے انکار کردیا تاکہ اس کو کچھ دراہم دئیے جائیں، تو اس شخص نےدراہم دئیےاور عورت سے نکاح کرلیا، تو جو دراہم اس نے دیئے وہ واپس لے، کیونکہ وہ رشوت ہے، ایسے ہی "قنیہ"میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 4، صفحہ 403، دار الفکر، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اگر وُہ روپیہ دینے والا اس لئے دیتا ہے کہ اس کے لالچ سے میرے ساتھ نکاح کردیں، جب تو وہ رشوت ہے، اس کا دینا لینا سب ناجائز و حرام، یُوں ہی اگر اولیائے عورت نے کہاکہ اتنا روپیہ ہمیں دے تو تجھ سے نکاح کردیں گے، ورنہ نہیں، جیسا کہ بعض دہقانی جاہلوں میں کفار ہنود سے سیکھ کر رائج ہے، تو یہ بھی رشوت و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 284، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ / 1992ء) لکھتے ہیں: لڑکی کے باپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی لڑکی سےنکاح کرنے کے لیے شوہر سے یا اس کے والد سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ کرے۔ اس سلسلہ میں جتنا روپیہ لیا، اس کو لوٹانا واجب ہے۔( وقار الفتاوی، کتاب النکاح، جلد 3، صفحہ 104، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)

نکاح کےعوض لی گئی رقم،دینے والے کو واپس کرنا لازم ہے، چنانچہ منحۃ الخالق اور فتاوٰی خیریہ میں ہے:

و النظم للآخر: سئل فی امرأۃ ابیٰ اقاربھا ان یزوجوھا الا ان یدفع لھم الزوج کذا فوعدھم بہ ھل یلزم ام لا؟ اجاب لا یلزم ولو دفع فلہ ان یأخذہ قائما او ھالکا لانہ رشوۃکما فی البزازیۃ وغیرھا

ترجمہ: ایک ایسی عورت کے متعلق سوال ہوا، جس کے رشتہ دار اس عورت کا نکاح صرف اس صورت میں کروانے پر راضی ہوتے ہیں کہ شوہر ان کو مخصوص رقم دے، پس شوہر نے انہیں مطلوبہ رقم دینے کا وعدہ کرلیا، تو شوہر پر وہ رقم دینا لازم ہےیا نہیں؟ جواب ارشاد فرمایا کہ شوہر پر یہ رقم لازم نہ ہوگی، اور اگر اس نے دیدی تو اسے واپس لینے کا اختیار ہے، خواہ رقم باقی ہویا ختم ہو چکی ہو، کیونکہ یہ رشوت ہے، جیساکہ فتاوٰی بزازیہ اور ا س کے علاوہ میں ہے۔ (فتاویٰ خیریہ، جلد 1، صفحہ 28، المطبعۃ الکبرٰی المیریۃبولاق، مصر)

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتےہیں: یہ روپے جو (نکاح میں دینے کے عوض) باندھے گئے ہیں، محض رشوت وحرام ہیں، نہ ان کاکھانا، جائز، نہ بانٹ لیناجائز، نہ مسجد میں لگانا جائز، بلکہ لازم ہے کہ جس شخص سے لئے ہیں، اسے واپس دیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 538، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0145
تاریخ اجراء: 21 جمادی الاولیٰ1447 ھ /13 نومبر 2025 ء