logo logo
AI Search

شرک کی تعریف کیا ہے؟ کن عقائد پر شرک ہوتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شرک کسے کہتے ہیں؟ شرک کی آسان تشریح و حقیقت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرک کی تعریف کیا ہے؟ آج کل اہلسنت و الجماعت کے بہت سے عقائد و معمولات پر شرک کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا حقیقت کے اعتبار سے واقعی اُن عقائد و اعمال پر شرک کا بولا جانا درست بھی ہوگا یا نہیں؟

جواب

شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی ذات یا اس کی صفات یا اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرنا، شرک کہلاتا ہے۔ اس کی مختصراًوضاحت یہ ہے کہ ذات میں شرک کا مطلب یہ ہےکہ اللہ عزوجل جیسی ذات کسی اورکی مان لی جائے۔ یعنی اللہ عزوجل کی ذات ہمیشہ سے ہے، اسے کبھی فنانہیں، اور وہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں۔ یہ باتیں کسی اور کے لیے مان لینا، ذات میں شرک کہلاتا ہے۔ صفات میں شرک یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی ذاتی، بے حد، ہمیشہ قائم رہنے والی صفات جیسی ہی صفات کسی مخلوق میں مان لی جائیں۔ عبادت میں شرک یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی جائے، یا اُسے عبادت کے لائق سمجھا جائے۔ ان تینوں میں سے اگر کوئی ایک بات بھی پائی جائے تو وہ شرک ہے، اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو شرک نہیں۔

مذکورہ شرک کی تعریف و تفصیل کی روشنی میں اہلِ سنت کے عقائد اور اعمال: جیسے غیر اللہ کے لیے علمِ غیب ماننا، انبیاء و اولیاء سے مدد چاہنا، انہیں غوث، حاجت روا یا مشکل کشا کہنا اور ماننا، اور مزارات پر جا کر دعا کرنا، ان سب کو دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی شرک میں داخل نہیں۔ اس لیے کہ ان عقائد و اعمال میں کہیں بھی انبیاء و اولیاء کو نہ اللہ عزوجل کی ذات میں شریک مانا جاتا ہے اور نہ عبادت میں؛ یوں نہ شرک فی الذات ہے نہ شرک فی العبادت۔ صفات کے معاملے میں بھی شرک نہیں، کیونکہ ’’علمِ غیب‘‘ جو اللہ کی خاص صفت ہے، اس سے مراد اللہ کا ذاتی، لامحدود، ہمیشہ سے اور ہمیشہ رہنے والا علم ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے۔ جبکہ انبیاء و اولیاء کے لیے جو ’’علمِ غیب‘‘ مانا جاتا ہے، وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا عطائی، محدود اور فنا ہونے کے قابل علم ہوتا ہے، ایسا علم اللہ عزوجل اپنے بندوں میں جسے چاہے جب چاہے اور جتنا چاہے عطا فرماتا ہے۔

اسی طرح غیر اللہ سے مدد مانگنے یا انہیں غوث، مددگار، حاجت روا کہنا بھی شرک نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اصل، حقیقی اور ذاتی مدد صرف اللہ عزوجل کی ہے۔ انبیاء کرام اور اولیاءِ عظام کی مدد صرف عطائی، غیر مستقل اور اللہ کے حکم و اجازت کے تحت ہوتی ہے۔ اللہ اپنے مقرب بندوں کو خیر کا ذریعہ بناتا ہے، مگر فاعل حقیقی یعنی حقیقت میں مدد کرنے والا ہمیشہ اللہ ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے عطائی علم و مدد کو شرک کہنا درست نہیں کہ اس میں شرک کی مذکورہ تینوں قسموں میں سے کوئی قسم نہیں پائی جاتی۔

شرک کی تعریف بیان کرتے ہوئے امام سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ شرح عقائد نسفیہ میں فرماتے ہیں:

الاشتراک هو اثبات الشريك في الالوهية بمعنى وجوب الوجود كما للمجوس او بمعنى استحقاق العبادة كما لعبدة الاصنام

ترجمہ: شرک تو وہ الوہیت میں کسی شریک کو ثابت کرنا ہے، اس طرح کہ اسے واجب الوجود مان لینا، جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے، یا عبادت کا مستحق سمجھنا، جیسا کہ بت پرستوں کا خیال ہے۔ (شرح عقائد نسفیہ، صفحہ 203، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: آدمی حقیقۃ کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیر خدا کو معبود یا مستقل بالذات وواجب الوجود نہ جانے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 131، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اللہ عزوجل کےعلم اور غیر اللہ کے علم میں زمین آسمان کا فرق ہےاس طرح کہ اللہ عزوجل کا علم ذاتی ہے جبکہ مخلوق کا علم عطائی، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں انباء المصطفی بحال سر و اخفی نامی رسالے میں ارشاد فرماتے ہیں: افسوس کہ ان شرک فروش اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ علمِ الہی ذاتی ہے اور علمِ خلق عطائی، وہ واجب یہ ممکن، وہ قدیم یہ حادث، وہ نامخلوق یہ مخلوق وہ نامقدور یہ مقدور، وہ ضروری البقا یہ جائز الفنا، وہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدّل۔ ان عظیم تفرقوں کے بعد احتمال شرک نہ ہوگا مگر کسی مجنون کو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 500، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اللہ عزوجل کا مدد کرنا حقیقی اور ذاتی ہےجبکہ غیر خدا کا مدد کرنابعطائے الہی ہے، چنانچہ امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات و مالک مستقل و غنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الٰہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتا ہے، اس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہے نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے بلکہ واسطہ وصول فیض و ذریعہ و وسیلہ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعا حق ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 303، 304، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-984
تاریخ اجراء: 29 جمادی الاولی1447ھ/21 نومبر 2025ء