بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو برتن، کپ یا گلاس وغیرہ کنارے سے تھوڑا سا کریک ہو تو کیا اس میں کھانا پینا منع ہو جاتا ہے؟
کنارے سے تھوڑا سا ٹوٹ جانے کی وجہ سے برتن میں مطلقاً کھانا پینا منع ہو جائے، ایسا نہیں ہے، بلکہ خاص اس ٹوٹے ہوئے مقام سے کھانا پینا مکروہ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ عمل ہے کہ حدیث پاک میں اس سے ممانعت آئی ہے، جس میں دیگر کئی حکمتوں کے ساتھ ساتھ ایک حکمت اس کا نظافت کے خلاف ہونا بھی ہے، لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔ البتہ اگر ایسے برتن کو دوسری جگہ سے استعمال کیا جہاں دراڑ وغیرہ نہیں، تو یہ مکروہ بھی نہیں ہے۔
جواز کی دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری، سنن الکبری للبیہقی اور شرح السنہ وغیرہ میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي اللہ عنه:أن قدح النبي صلى اللہ عليه وسلم انكسر فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة، قال عاصم: رأيت القدح و شربت فيه
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پیالہ ٹوٹ گیا، تو اس شگاف کی جگہ پر چاندی کی تار لگائی گئی۔ حضرت عاصم کہتے ہیں: میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے اور اس میں پیا بھی ہے۔ (صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 1131، حدیث 2942، دار ابن كثير، دمشق)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ٹوٹے ہوئے برتن کو چاندی یا سونے کے تار سے جوڑنا، جائز ہے اور اُس کا استعمال بھی جائز ہے، جبکہ اُس جگہ سے استعمال نہ کرے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا لکڑی کا پیالہ تھا، وہ ٹوٹ گیا تو چاندی کے تار سے جوڑا گیا، اور یہ پیالہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھا۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 398، مکتبة المدینہ، کراچی)
سنن ابی داؤد، مسند احمد، صحیح ابن حبان اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري أنه قال: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن الشرب من ثلمة القدح و أن ينفخ في الشراب
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایا اور اس سے کہ پینے کی چیز میں پھونکا جائے۔ (سنن أبي داود، جلد 3، صفحہ 337، حدیث 3722، المكتبة العصرية، بيروت)
علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1031ھ / 1622ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:
لأن الوسخ والقذى و الزهومة يجتمع في الثلمة و لا يصل إليه الغسل
ترجمہ: اس لیے کہ میل، گرد اور چکنائی دراڑ میں جمع ہو جاتے ہیں اور (دھوتے وقت) اس تک پانی کا بہاؤ نہیں پہنچ پاتا۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير، جلد 6، صفحه 316، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: خواہ پیالہ کا کنارہ کچھ ٹوٹا ہوا ہو یا پیالہ کے وسط میں سوراخ ہو، اس سے پانی وغیرہ مطلقاً منع ہے کہ یہ جگہ منہ سے اچھی طرح نہیں لگتی جس سے پانی وغیرہ بہہ کر کپڑوں پر گرتا ہے، کچھ منہ میں جاتا ہے، کچھ کپڑے تر کرتا ہے۔ نیز یہ جگہ پھر اچھی طرح سے صاف بھی نہ ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ ٹوٹا ہوا کنارہ ہونٹ کو زخمی کر دے اور زخم کا خون، پانی اور برتن کو ناپاک کر دے، بہرحال اس حکم میں بھی بہت حکمتیں ہیں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 64، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1006
تاریخ اجراء: 17 جمادى الآخر 1447ھ / 09 دسمبر 2025ء