وکیل کا منت کی رقم خود خرچ کرنا کیسا؟

وکیل کا صدقہِ واجبہ کی رقم خود استعمال کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے کسی کام کے پورا ہونے پر اللہ کی راہ میں ایک مقررہ رقم صدقہ کرنے کی منت مانی۔ جب اُس کا کام پورا ہو گیا، تو اُس نے وہ رقم اپنے دوست کے سپرد کی تا کہ وہ اسے کسی مستحق تک پہنچا دے۔ اب اگر وہ رقم پہنچانے والا شخص خود بھی شرعی فقیر ہو، تو کیا وہ اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں شرعی فقیر وکیل کا اپنی ذات پر منت کی رقم خرچ کرنا، جائز نہیں، کیونکہ جس شخص کو صدقۂ واجبہ (مثلاً زکوۃ، صدقۂ فطر، یا منت وغیرہ) کی ادائیگی کے لیے وکیل بنایا جائے، تو وہ اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں خرچ نہیں کر سکتا، خواہ وہ شرعی فقیر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ رقم اُس کے پاس امانت ہے جسے مؤکل (یعنی دینے والے) کی ہدایت کے مطابق تصرف کرنا لازم ہے، البتہ اگر مؤکل اُسے عمومی اجازت دیدے کہ جہاں مناسب سمجھو خرچ کرو، تمہیں اختیار ہے، تو شرعی فقیر ہونے کی صورت میں وکیل اس رقم کو اپنےذاتی استعمال میں لا سکتا ہے۔

منت کے وہی مصارف ہیں جو زکوۃ و صدقۂ فطر کے ہیں، چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

(مصرف الزكاة والعشر) مصرف ايضا لصدقة الفطر و الكفارة و النذر و غير ذلك من الصدقات الواجبة

ترجمہ: جو زکوۃ وعشر کا مصرف ہے، وہی صدقۂ فطر، کفارہ، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی مصرف ہے۔ (ردالمحتار مع الدر المختار، جلد 3، باب المصرف، صفحہ 333، مطبوعہ کوئٹہ)

مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: ”صدقۂ واجبہ، مثلاًکسی نے نذرمانی کہ میرا لڑکا تندرست ہوگیا، تو میں اتنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کروں گا، تو اس ما ل کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ وصدقۂ فطر کے مصارف ہیں۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 500، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)

وکیل کے پاس جو مال ہوتا ہے وہ امانت کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: ”وکیل یا مضارب کو جو مال دیا جاتا ہے وہ امانت ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 3،حصہ 17، صفحہ 711، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وکیل پر مؤکل کی ہدایت کے مطابق تصرف کرنا لازم ہے، جیسا کہ ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل فيملك قدر ما افاده ولا يثبت العموم الا بلفظ يدل عليه وهو قوله: اعمل فيه برايك وغير ذلك مما يدل على العموم

ترجمہ:وکیل وہی تصرف کرسکتا ہے جو اسے مؤکل کی جانب سے دیا گیا ہو، لہٰذا وہ اُتنا ہی اختیار رکھتا ہے جتنا اُسے دیا گیا ہے اور عمومی اختیار (یعنی ہر طرح کےتصرف کی اجازت) اُس وقت ہی ثابت ہوگا جب کوئی ایسا لفظ موجود ہو جو اس پر دلالت کرے، جیسے مؤکل یہ کہے: اس میں اپنی رائے کے مطابق کام کرو یا اس جیسا کوئی اور جملہ جو عمومی اجازت پر دلالت کرے۔ (بدا ئع الصنائع، کتاب الوکالۃ، جلد 6، صفحہ 28، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

صدقاتِ واجبہ کے وکیل کا اُس مال کو اپنی ذات پر خرچ کرنے کے متعلق فتاوی شامی، بحرا لرائق وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے،

و اللفظ للآخر:  في الظهيرية: رجل دفع زكاة ماله الى رجل وامره بالاداء فاعطى الوكيل ولد نفسه الكبير او الصغيراو امراته وهم محاويج جاز ولا يمسك لنفسه شيئا ولو ان صاحب المال قال له: ضعه حيث شئت له ان يمسك لنفسه

یعنی فتاوی ظہیریہ میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی زکوۃ دوسرے شخص کو دی اور اُسے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا، تو وکیل وہ زکوۃ اپنے بڑے یا چھوٹے بیٹے یا اپنی بیوی کو دے سکتا ہے، جبکہ وہ محتاج(شرعی فقیر) ہوں، البتہ اپنی ذات کے لیے اُ س میں سے کچھ نہیں روک سکتا، مگرجب مؤکل نے اُسے یہ کہا ہو کہ تم جیسے چاہو اسے خرچ کرو، تو اب یہ (مستحقِ زکوۃ ہونے کی صورت میں ) اپنی ذات کے لیےوہ زکوۃ رکھ سکتا ہے۔ (بحر الرائق،کتاب الزکوٰۃ، جلد 2، صفحہ 263، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ ”زید نے بکر کو کچھ دیا اور کہا اس کو مساکین کوجہاں مناسب سمجھو دے دیجیو، اگر زید خود اس کا مصرف ہو، اپنے اوپر اس کو صرف کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: جس کے مالک نے اُسے اذنِ مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھو، دو، تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ یہ اس کا مصرف ہو۔ ہاں! اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے، اُسے اپنے نفس پر صَرف کرنا، جائز نہ ہوتا، مگر اپنی یا اولاد کودے دینا جب بھی جائز ہوتا، اگر وُہ مصرف تھے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 158، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں:”وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے، ہاں اگر زکاۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو، تو لے سکتا ہے۔“(بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 888، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-9577

تاریخ اجراء: 29 ربیع الآخر 1447ھ/23 اکتوبر 2025 ء