بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زیادہ وظائف کرنے سے رجعت ہو جاتی ہے، کیونکہ کچھ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ جب ایک وقت میں زیادہ وظائف پڑھتے ہیں، یا زیادہ پڑھا جائے تو رجعت ہو جاتی ہے جو جادو بندش سے بھی سخت ہے جس کی وجہ سے گھر تباہ ہوجاتے ہیں، رزق بند ہوجاتا ہے۔ آپ اس بارے میں رہنمائی فرما دے کہ کیا رجعت ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا اب روحانی علاج کیسے ہوگا؟
رجعت ممکن ہے اور یہ کئی بار ہو بھی جاتی ہے، لیکن یہ ہر ورد، وظیفے میں نہیں ہوا کرتی، جیسے وہ وظائف جو احادیث مبارکہ میں بیان کئے گئے ہیں، ان میں نہ تو کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان میں رجعت کا کوئی خطرہ ہوتا ہے۔ رجعت کے کئی ممکنہ اسباب ہیں: جیسے وہ وظائف و عملیات جن میں کسی عامل یا مرشد کی اجازت ضروری ہوتی ہے، ان وظائف کو بغیر اجازت کرنے، یا ان کی تمام شرائط وضوابط کے اوپر پورا نہ اترنے، یا اس عمل کو کرتے ہوئے درمیان میں چھوڑ دینے سے کبھی رجعت ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کسی ناجائز مقصد کے لیے عملیات کرنے کے سبب بھی رجعت ہوجاتی ہے۔ بہرحال اگر کسی کو رجعت ہوجائے تو اس کے مختلف روحانی علاج موجود ہیں جس سے یہ ختم بھی ہوسکتی ہے۔ اس کیلئے دعوت اسلامی کے شعبہ روحانی علاج اور استخارہ سے رابطہ کر کے مزید رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ رجعت عمل کیا چیز ہے، کیا عمل کا لوٹ جاناکسی بے احتیاطی وغیرہ سے ممکن ہے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ہاں ممکن ہے اور بارہا واقع ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 202، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1004
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاخری 1447ھ / 06 دسمبر 2025ء