کتنا علم دین حاصل کرنا فرض ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہر مسلمان پر کتنا علم دین حاصل کرنا فرض ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟
جواب
ہر عاقل، بالغ مسلمان (مرد و عورت) پر اپنی موجودہ حالت کے مطابق بقدرِ ضرورت شرعی مسائل کا علم حاصل کرنا فرض ہے، اس میں عقائد، عبادات، معاملات اور حلال و حرام کے وہ تمام مسائل شامل ہیں، جس کی انسان کو اپنے دین پر عمل کرنے کے لیے ضرورت پیش آتی ہے، سب سے پہلے بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا فرض ہے، کہ جن کے اعتقاد سے مسلمان سنی المذھب ہوتا ہے، اور انکار و مخالفت سے کافر، یا بدمذہب۔ اس کے بعد نماز کے مسائل، یعنی اس کے شرائط و فرائض و مفسدات، جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔
پھر جب رمضان آئے تو روزوے کے مسائل، مال نامی سے نصاب کا مالک ہو تو زکوۃ کے مسائل، صاحب استطاعت ہو، تو حج کے مسائل، نکاح کرنا چاہے، تو اس کے ضروری مسائل، تاجر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، کاشت کار پر کاشتکاری کے مسائل، ملازم و سیٹھ پر اجارے کے مسائل، وغیرہ وغیرہ، اسی طرح دل سے تعلق رکھنے والے فرائض کے مسائل ہیں، مثلا تواضع، اخلاص، توکل وغیرہ اور ان کو حاصل کرنے کے طریقے، اور اسی طرح باطنی امراض، جیسے تکبر، ریا، عجب اور حسد وغیرہ اور ان کے علاج کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: "طلب العلم فريضة على كل مسلم" ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (سنن ابن ماجه، صفحہ 52، رقم الحدیث 224، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: "ای مكلف وهو العلم الذي لا يقدر المكلف بالجهل به كمعرفة الصانع وما يجب له وما يستحيل عليه ومعرفة رسله وكيفية الفروض العينية الخ" ترجمہ: مکلف پر اس علم کا حاصل کرنا فرض ہے جس سے جاہل رہنے کی شریعت نے اجازت نہ دی ہو جیسے ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کے لیے لازم و محال باتوں کی معرفت، اس کے رسولوں کی معرفت، نیز جو عبادت ہر ایک پر لازم ہو، اس کی کیفیت کی معرفت حاصل کرنا (ہر مکلف پر فرض ہے)۔ (فیض القدیر، حرف الهمزة، ج 01، ص 542، مطبوعہ: مصر)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ہر مسلمان مرد عورت پر علم سیکھنا فرض ہے، علم سے بقدر ضرورت شرعی مسائل مراد ہیں۔ لہذا روزے نماز کے مسائل ضرور یہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجر پر، حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں۔" (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحه 185، نعیمی کتب خانه، گجرات)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے متعلق مختصر اور جامع کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”(یہ حدیث) بوجہ کثرتِ طرق وتعدّدِ مخارج حدیثِ حسن ہے، اس کا صریح مفاد ہر مسلمان مرد و عورت پر طلبِ علم کی فرضیت، تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا تعلم فرضِ عین ہو، اور فرضِ عین نہیں مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو، ان کا اعم واشمل واعلیٰ واکمل واہم واجل علم اصولِ عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنّی المذہب ہوتا ہے اور انکار و مخالفت سے کافر یا بدعتی، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں۔ پھر علمِ مسائلِ نماز یعنی اس کے فرائض و شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کر سکے، پھر جب رمضان آئے تو مسائلِ صوم، مالکِ نصاب نامی ہو تو مسائلِ زکوٰۃ، صاحبِ استطاعت ہو تو مسائلِ حج، نکاح کیا چاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلے، تاجر ہو تو مسائلِ بیع و شراء، مزارع پر مسائلِ زراعت، موجر و مستاجر پر مسائلِ اجارہ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ہر اس شخص پر اس کی حالتِ موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائلِ حلال و حرام کہ ہر فرد بشر ان کا محتاج ہے اور مسائلِ علمِ قلب یعنی فرائضِ قلبیہ مثل تواضع و اخلاص و توکل و غیرہا اور ان کے طرقِ تحصیل اور محرماتِ باطنیہ تکبر و ریا و عُجب و حسد و غیرہا اور اُن کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بے نماز فاسق و فاجر و مرتکبِ کبائر ہے، یونہی بعینہٖ ریاء سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ نسئل ﷲ العفو و العافیۃ۔ تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس۔“ (فتاوىٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 624، 623، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5208
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1448ھ/18 جولائی 2026ء